Al-Risala · October 1995 · page 24

ایک شبہ کا ازالہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

نہیں، یہ سوال عجیب بھی تھا اور غیر متعلق بھی۔ مگر اس سوال نے ایک اہم حقیقت مجھ پر واضح کر دی۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے پر کھلا کہ اس کی وجہ ذاتی مشغولیت ہے۔ ہر شخص اپنے مسائل اور اپنے انٹرسٹ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ کسی کو دوسرے سے الجھنے کا موقع نہیں۔

میں نے کہا کہ یہ باہمی لڑائی کے خلاف قدرت کا ایک طاقت ور چیک ہے، اس طرح قدرت نے ہر ایک کو اپنی ذات میں اتنا زیادہ گم کر دیا ہے کہ اگر اس کو چھیڑا نہ جائے تو کبھی دنگا اور فساد کی نوبت نہ آئے۔

میں ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھی ایئرپورٹ ٹیکس ادا کرنے چلے گئے۔ کیوں کہ ایئر پورٹ ٹیکس کی ادائیگی کی رسید حاصل کئے بغیر بورڈنگ پاس نہیں مل سکتا تھا۔ دو آدمی کے لئے چھ سو روپیہ ایئر پورٹ ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ ایئر پورٹ ٹیکس سب کو دینا پڑتا ہے۔ صرف حاجیوں کے لئے یہ سفر ٹیکس معاف ہے۔ سیکولر ملک میں بھی کیسی کیسی غیر سیکولر نعمتیں مسلمانوں کو حاصل ہیں۔

بورڈنگ کارڈ اور دوسرے مراحل سے گزر کر چیکنگ کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں بیٹھے ہوئے آدمی نے میرا پاسپورٹ دیکھتے ہوئے پوچھا: آپ آتھر ہیں۔ ہاں۔ کیا ناول لکھتے ہیں۔ نہیں، میرا موضوع نان فکشن ہے۔ اس طرح کے مختصر سوال و جواب کے بعد آگے بڑھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ عام انسان کے نزدیک کتاب سے مراد بس ناول یا افسانہ ہے۔ کیوں کہ لوگوں کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہے۔ کتاب وغیرہ کو وہ صرف تفریح کی چیز سمجھتے ہیں۔ اور تفریح ناول افسانے سے ہوتی ہے نہ کہ سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ سے۔ کتاب یا مطالعہ کا مقصد شعور کا ارتقا تھا۔ مگر آج وہ بس وقتی تفریح کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔

دہلی ایئر پورٹ پر انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایئر پورٹ کا ایک آدمی آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں واکی ٹاکی تھی اور دوسرے ہاتھ میں چوڑا ٹیپ۔ اس نے بلند آواز سے پکارا: پنہر راجندر سنگھ مسافر اٹھا تو اس نے کہا کہ آپ کا ایک سامان ڈیمیج (damage) ہو گیا ہے۔ چل کر اس کو پہچان کر لیں۔ پہچان کرانے کے بعد اس نے اپنا ٹیپ کھولا اور اس کو چاروں طرف سے لگا کر ان کے بنڈل کو خوب مضبوط کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page