Al-Risala · October 1995 · page 25

ایک شبہ کا ازالہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵

یہ منظر دیکھ کر میرا جی بھر آیا۔ با چشم گریہ میں نے کہا: خدایا، اس مسافر کا تو ایک سامان ڈی میج ہوا تھا اور تلاش کرنے والے نے تلاش کر کے اس کو درست کر دیا۔ میرا تو سب کچھ ڈی میج ہو چکا ہے۔ حتی کہ اس عمر کو پہنچ کر آپ کا دیا ہوا جسم بھی اب ڈی میج ہو گیا۔ خدایا، تو اپنے فرشتوں کو بھیج دے جو تیری قدرت کی ٹِیپ کے ذریعہ میرے تمام ڈی میجز کو درست کر دیں۔ دہلی سے روم کے لئے ایئر انڈیا کی فلائٹ اے کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ایئر انڈیا کی میگزین نَمَسکار (ستمبر۔ اکتوبر 1993ء) دیکھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا برٹش راج کا تاج : The Taj of the Raj یہ مضمون کلکتہ کی ۷۲ سالہ بلڈنگ وکٹوریہ میموریل کے بارہ میں تھا۔ بتایا گیا تھا کہ 1901ء میں جب کوئین وکٹوریہ کا انتقال ہوا اس وقت لارڈ کرزن انڈیا میں برٹش وائسرائے تھے۔ انہوں نے تجویز کی کہ کوئین کی ایک یادگار کلکتہ میں قائم کی جائے۔ اس وقت کلکتہ یہاں کی راجدھانی تھا۔ اس کے مطابق کلکتہ کا وکٹوریہ میموریل ہال تعمیر کیا گیا۔ مضمون میں اس کے مختلف پہلوؤں کا تعارف کراتے ہوئے آخر میں یہ جملہ درج تھا کہ اس سال جب کہ میموریل اپنی ۷۲ سالہ تقریب منا رہا ہے، وہ ماضی کی ایک شاندار یادگار کے طور پر اب بھی باقی ہے، ایک ماضی جو ناقابل انقطاع طور پر حال سے جڑا ہوا ہے:

it remains quintessentially a majestic testimony to the past -- a past that is inexorably linked to the present. (36)

یہ خوبصورت جملہ صرف آدھے معنی میں درست ہے۔ عمارت کے اعتبار سے وہ ماضی سے حال تک جڑا ہوا ہے۔ مگر جس راج کے نام پر یہ عمارت بنائی گئی تھی وہ راج 1947ء میں ختم ہو گیا۔ جو لوگ اس فرق کو نہ سمجھیں اور عمارت کے اوپر سیاست کو قیاس کر کے ماضی کے راج کو حال تک وسیع کرنا چاہیں وہ طے ہوئے حال کو بھی برباد کر دیں گے۔

یہ فلائٹ براہ راست دہلی سے روم کے لئے تھی۔ دونوں کے درمیان مسافت 4385 کلو میٹر ہے۔ یہ سفر پورے آٹھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ کچھ وقت سونے میں گزرا اور کچھ وقت پڑھنے میں۔ یہاں تک کہ جہاز پر سکون طور پر روم کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page