Al-Risala · October 1995 · page 26

ایک شبہ کا ازالہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶

روم کے بارہ میں ایک دلچسپ خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی اخبار (PAESE SERA) کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دار السلطنت کو پندرہ ملین چوہے کتر رہے ہیں : The capital of Italy is now being gnawed away by some 15 million rats. خبریں کہا گیا تھا کہ چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس ابدی شہر (Eternal city) کے لئے زبر دست خطرہ بن گئی ہے۔ کبھی ٹیلیفون کام نہیں کرتا اور تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ چوہے نے لائن کاٹ دی ہے۔ کبھی بجلی فیل ہو جاتی ہے اور اس کا سبب چوہے ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ابھی تک اس مسئلہ کا کوئی موثر حل دریافت نہیں کیا جا سکا ہے ـــــ مہلک گیس چھڑک کر تمام چوہوں کو مارا جا سکتا ہے۔ مگر چوہوں کا یہ خاتمہ اس قیمت پر ہو گا کہ اسی کے ساتھ انسان بھی ختم ہو چکے ہوں ــــــــ وہ روم جو انسانی فوجوں کے لئے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، وہ چوہے کی فوج کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے۔

مہاتما گاندھی ایک سفر کے دوران دسمبر ۱۹۳۱ میں روم آئے تھے۔ انہوں نے پوپ اور مسولینی دونوں سے ملاقات کی کوشش کی۔ ان کے سوانح نگار مسٹر لوئی فشر نے اپنی ۵۵۰ صفحہ کی کتاب (The Life of Mahatma Gandhi) میں لکھا ہے کہ پوپ نے کسی وجہ سے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ مسولینی سے ان کی ملاقات ہوئی جو صرف دس منٹ تک جاری رہ سکی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ گاندھی عدم تشدد کی بات کرتے تھے اور مسولینی تشدد کے طریقے پر یقین رکھتا تھا۔ مہاتما گاندھی کا بیان ہے کہ عمارت کے جس راستہ سے گزار کر انھیں مسولینی کے کمرہ میں پہنچایا گیا، اس کی دیواروں پر ہر طرف تلواریں لگی ہوئی تھیں۔ خود دفتر کی دیواریں بھی تلواروں اور دوسرے ہتھیاروں سے مزین کی گئی تھیں (صفحہ ۲۹۵)

مسولینی نے دوسری عالمی جنگ میں یہ سمجھ کر شرکت کی کہ وہ دوبارہ عظیم اطالوی ایمپائر قائم کرنے جا رہا ہے۔ مگر اس کے جنگی اقدامات نے صرف اٹلی کو تباہ کیا۔ جولائی ۱۹۴۳ میں وہ خود اپنے ملک میں گرفتار کر کے قید کر دیا گیا۔ وہاں سے بھاگ کر وہ جرمنی پہنچا۔ مگر جرمنی میں بھی اس کو سکون کی جگہ نہ مل سکی۔ ۲۸ اپریل ۱۹۴۵ کو جرمن فوجیوں نے اس کو عین اس وقت گولی مار کر ہلاک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page