Al-Risala · October 1995 · page 33

Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳

مسلسل اپنی حکومت کا رقبہ اور طاقت بڑھاتا رہا۔ کہا جانے لگا کہ وہ دن دور نہیں جب وہ پورے اٹلی کا حکمران بن جائے۔ مگر حکومت پر قبضہ کے ۴ سال گزرے تھے کہ وہ پلیگ میں مبتلا ہوا اور چند دن بیمار رہ کر مرگیا۔

یہی ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صرف "۴ سال" ملتے ہیں ، مگر ہر آدمی اس طرح عمل کرتا ہے گویا کہ وہ ۴ ہزار سال تک زندہ رہنے والا ہے۔ کسی بھی اگلے شخص نے اپنے پچھلے شخص سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

نویں صدی عیسوی میں اغالبہ اٹلی کے جنوبی حصہ میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ بڑھتے ہوئے ۸۴۶ میں روم تک پہنچ گئے۔ مگر روم کی مضبوط دیواروں کو عبور کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہو سکا۔ اس لئے وہ یہیں سے واپس ہو گئے ۔ ہوائی جہاز کے دور میں کوئی دیوار پیش قدمی میں رکاوٹ نہیں بنتی، مگر قدیم زمانہ میں تمام بڑے بڑے شہر دیواروں سے گھرے ہوئے تھے ، اور ان دیواروں کو عبور کرنا عام طور پر سخت دشوار ہوتا تھا۔

تاہم اٹلی کے ساحلی علاقہ باری (Bari) میں عربوں کی حکومت تقریباً ۳۰ سال قائم رہی۔ ۸۷۱ء میں عیسائیوں نے دوبارہ باری کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اٹلی میں مسلمانوں کا زور اس حد تک بڑھا کہ پوپ جان ہشتم نے مسلم حکمرانوں کو خراج ادا کیا۔ سسلی پر مسلمانوں کا قبضہ ۸۲۷ میں شروع ہوا تھا جو تقریباً ۲۰۰ سال تک جاری رہا۔ مگر خاص اٹلی میں ان کا نفوذ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ مسلمانوں کے جن فوجی سرداروں نے باری پر قبضہ کیا تھا ، انھوں نے اپنے "سلطان" ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح وہ سسلی کی مسلم حکومت سے کٹ گئے:

Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605

یہ کمزوری آج بھی مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ جس مسلمان کو بھی کہیں موقع ملتا ہے وہ مرکز سے بغاوت کر کے شاخ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ یہی واحد سب سے بڑا سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں میں کوئی بڑا کام نہیں ہو پاتا۔

اٹلی ہی کا ایک حصہ جزیرہ سسلی ہے۔ یہاں کے شہر پلرمو (Palermo) پر عربوں نے ۶۸۳۱

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page