Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵
پچھلے ہزار برس کی تاریخ کا بیشتر پہلا حصہ مسلم یلغار کا دور تھا۔ اس کا دوسرا حصہ مغربی یلغار کا دور ہے۔ یہ انصاف کے خلاف ہوگا کہ ابتدائی حصہ کو بھلا دیا جائے اور صرف آخری حصہ کو یاد رکھا جائے ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو قرآن کی اس آیت سے نصیحت لینا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو ان کو بھی اسی طرح کا زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰)
میلان کی قدیم تاریخ سے جو واقعات وابستہ ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو الرازی (۸۶۵ - ۹۲۳ء) سے متعلق ہے جو اسلامی تاریخ کا مشہور فلسفی اور طبیب تھا: الرازی کی ایک مشہور طبی تصنیف کتاب الطب المنصوری ہے۔ یہ کتاب اس نے دس جلدوں میں تیار کی تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں گیرارڈ (Gerard of Cremona) نے کیا۔ یہ لاطینی ترجمہ پہلی بار میلان سے پندرھویں صدی کی عثمانیات میں شائع ہوا۔
گیرارڈ اٹلی کے شہر کر یمونا میں ۱۱۱۴ء میں پیدا ہوا۔ یہ مقام میلان سے قریب ہے۔ گیرارڈ چاہتا تھا کہ وہ بطلیموس کی کتاب المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کرے۔ اس وقت یہ کتاب صرف عربی میں دستیاب تھی۔ چنانچہ گیرارڈ عربی زبان سیکھنے کے لئے طلیطلہ (Toledo) گیا۔ وہاں عربی سیکھ کر اس نے المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ اس کے بعد وہ طلیطلہ میں رہ گیا۔ مسلم اسپین کے اسی شہر میں ۱۱۸۷ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے تقریباً ۸۰ عربی کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔
یہ آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے جب کہ یورپ کو خود اپنے علوم سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے عربی زبان کی ضرورت ہوتی تھی۔ آج یہ حالت ہے کہ دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں اور لائبریریوں اور تحقیقی اداروں میں عربی زبان موجود مگر زیادہ تر تاریخی اعتبار سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues