Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
اٹلی کی روشن خیالی (Enlightenment) کو عام طور پر بیساریا (Beccaria) طرف منسوب کیا جاتا ہے جس نے اپنی قوم کو یہ نعرہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کے لئے زیادہ سے زیادہ خوشی :
"the greatest happiness for the greatest number."
مگر سوال یہ ہے کہ خود بیساریا کو یہ تصور کہاں سے ملا۔ کیوں کہ اس سے پہلے رومن ایمپائر کے طویل دور میں اہل اٹلی صرف یہ جانتے تھے کہ ہم اپنے بادشاہ کی رعایا ہیں۔ ہمارا اپنا کوئی حق نہیں۔ ہمارے لئے بس وہی ہے جو تاجدار طبقہ ہمیں دیدے۔ اہل اسلام نے جب رومن ایمپائر کے مشرقی حصہ کو توڑا اور تمام انسانوں کی برابری کا انقلابی اعلان کیا، اس کے بعد ہی وہ وقت آیا جب کہ کوئی شخص یہ سوچ سکے کہ خوشی سب کے لئے ہے نہ کہ صرف کچھ لوگوں کے لئے۔ اٹلی کی تاریخ میں بہت سے سبق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کی تبلیغ سے اس علاقہ میں مسیحیت داخل ہوئی۔ مگر اس زمانہ کے رومی بادشاہوں ڈیسیس (Decius) اور ویلیرین (Valerian) نے اس کو اپنے قدیم شرکانہ مذہب کے خلاف سمجھا جس میں سورج کو سب سے بڑے خدا کا مقام حاصل تھا۔ چنانچہ ان کے زمانہ میں مسیحیوں کی سخت تعذیب (Persecution) شروع ہوئی جو چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں تقریباً ۲۰ سال تک جاری رہی۔
پو قسطنطین اول (Constantine I) مسیحیت سے متاثر ہو گیا۔ کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اپنی ۳۱۲ء کی جنگ اس نے اس مسیحی مونو گرام کی وجہ سے جیتی ہے جو اس نے اپنی فوجوں کی ڈھال پر نقش کرائی تھی۔ اس کے بعد اس نے مسیحی مذہب قبول کر لیا۔ اور پوری مسیحی سلطنت میں مسیحیوں کے خلاف دار و گیر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سلسلہ میں اس نے اس معاہدہ پر دستخط کئے جو میلان میں لکھا گیا تھا۔ اس لئے وہ (Edict of Miload) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ زمانہ اناس علی دین ملوکم کا تھا۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد مسیحیت سارے رومن ایمپائر میں پھیل گئی۔ چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں مسیحیت رومن ایمپائر میں ایک مظلوم مذہب کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر اس صدی کے آخر میں مسیحیت نے رومن ایمپائر میں فاتح مذہب کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues