Al-Risala · October 1995 · page 39

Religious coexistence in India.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹

کیا گیا۔ سوالات کا تعلق کچھ موجودہ کانفرنس سے تھا اور کچھ ہندوستان کے حالات سے۔ ۱۸ اگست کو شام کا کھانا اجتماعی تھا۔ سب چیزیں اطالوی انداز کی تھیں۔ میں اپنے سادہ کھانے کا اتنا زیادہ عادی ہو گیا ہوں کہ اب دوسرے انداز کی چیزیں کھانا میرے لئے سخت مشکل ہوتا ہے۔

میرے ساتھ کھانے کی بڑی میز پر دوسرے تمام مسیحی حضرات تھے۔ ایک فادر روانی کے ساتھ عربی بول رہے تھے۔ اگرچہ لہجہ خالص عربی نہ تھا۔ میرے پاس ایک کرسی خالی تھی۔ اس پر ایک خاتون آکر بیٹھ گئیں ۔ وہ مجھ سے عربی زبان میں سوالات کرنے لگیں۔ وہ بے تکلف عربی بول رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا تعلق لبنان سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، میں اطالوی ہوں، میں نے روم کی یونیورسٹی میں عربی زبان پڑھی۔ پھر میں کئی سال تک شام میں رہی ہوں۔ اب میں روم کی یونیورسٹی میں عربی کے شعبہ میں استاد ہوں۔

مسیحیت کے مذہبی حلقہ میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو دوسری زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے مذہبی حلقہ میں ایسے لوگ شاذ و نادر پائے جاتے ہیں۔ اور شاذ کا کوئی اعتبار نہیں، کیوں کہ الشاذ کالعدوم۔

۱۹ ستمبر کو صبح کے ناشتہ پر الجزائر کے دو تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ الجزائر میں اس وقت امن وامان مفقود ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب الجزائر چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلے گئے ہیں۔ اور دوسرے صاحب وہیں ایک یونیورسٹی میں استاد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الجزائر کی حکومت ایک علمانی حکومت ہے۔ اور اس کے خلاف موجودہ تحریک ایک اسلامی تحریک ہے۔ اس کا مقصد عدل کی حکومت قائم کرنا ہے۔ مگر اس حکومت کو امریکہ اور ڈول یورپ کی تائید حاصل ہے۔ مسلم ممالک بھی اس کے ساتھ ہیں۔ الجزائر کی فوج کے اعلی افسران بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ وہ اسلامی تحریک پر ظلم کرنے میں پوری طرح جری ہو گئے ہیں۔ انھوں نے الجزائر کی کئی مسجدیں یہ کہہ کر ڈھادیں کہ ان کے اندر حکومت کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں اور انقلاب کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ یہ مسجدیں اب

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page