Religious coexistence in India.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
جس کو محوری اتحاد (Axis coalition) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے تمام طاقتوں کے خلاف مکمل جنگ (total war) کا اعلان کیا (19/564)۔ اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی نے اس سے پہلے ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۲ کو میلان کی ایک خصوصی میٹنگ میں بتایا تھا کہ آج میں دل کے پورے اطمینان کے ساتھ آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ بیسویں صدی فاشزم کی صدی ہوگی۔ اطالوی طاقت کی صدی، ایک ایسی صدی جس کے دوران اٹلی تیسری بار عالم انسانیت کا قائد بن جائے گا: On October 25, 1932, Mussolini assured a Milan audience of the world leadership of fascist Italy. Today, with a fully tranquil conscience, I say to you, that the twentieth century will be a century of fascism, the century of Italian Power, the century during which Italy will become for the third time the leader of mankind. (7/185)
میلان اپنی جغرافی خصوصیت کی بنا پر مسلسل مختلف قوموں کے حملوں کا شکار رہا ہے۔ رومیوں نے اس کو ۲۲۲ ق م میں گال (Gauls) سے چھینا۔ اس کے بعد بار بار وہ مختلف حملہ آوروں کی زد میں آتا رہا۔ تاہم میلان کے باشندوں کے لئے یہ صورت حال ایک فائدہ کا سبب بن گئی۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ، ذاتی تحفظ کی ضرورت نے اس کے باشندوں میں ہمت کی صفت پیدا کر دی۔ مزید یہ کہ وہ مال دار اور طاقت ور ہو گئے: The need of self-protection developed courage in the Milanese, and they also grew rich and powerful. اس دنیا میں ہر ناموافق کے ساتھ موافق موجود ہے۔ تاہم ناموافق واقعہ میں موافق پہلو کو پانے کی ایک لازمی شرط ہے، وہ یہ کہ ایسے مواقع پر آدمی کسی بھی حال میں اپنے اندر شکایتی ذہن پیدا نہ ہونے دے۔
۱۶ ستمبر کے شام کے پروگرام میں میرا مقالہ تھا۔ اس اجلاس کا موضوع تھا: مذہبی بقاء باہم ہندستان میں:
Religious coexistence in India.
میں نے انگریزی میں اپنا مقالہ پڑھا۔ میرے علاوہ تین مقالے اور اس مجلس میں پڑھے گئے۔ ۲۱ ستمبر کی صبح کو اٹالین ٹی وی نے انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کیتھولک یونیورسٹی کے ہال میں ریکارڈ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues