Al-Risala · February 1995 · page 4

روزہ: اخلاقی ڈسپلن

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴

روزہ: اخلاقی ڈسپلن

روزہ ایک عبادت ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اخلاقی ڈسپلن کی تربیت ہے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک ذمہ دارانہ سلوک ہو نہ کہ بے قید سلوک۔ روزہ بتاتا ہے کہ تم اپنی آزادی کو محدود طور پر استعمال کرو نہ کہ لامحدود طور پر۔ روزہ خود عائد کردہ پابندی (self-restraint) کا سبق ہے۔ یہ خود عائد کردہ پابند زندگی ہی تمام اصلاحات کی جان ہے۔

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ شور کرے۔ اور اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں تو روزہ دار ہوں : والصیام جنۃ ۔ فاذا کان یوم صوم احدکم فلا يرفث ولا يصخب - فإن سابه احد او قاتله فليقل إنی صائم (متفق علیہ)

روزہ بظاہر کھانا اور پانی چھوڑنے کا نام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ روزہ جس طرح آدمی سے یہ کہتا ہے کہ تم کھانا اور پینا چھوڑ دو، اسی طرح روزہ اس سے یہ بھی کہتا ہے کہ اگر تم سچے روزہ دار ہو تو تم کو چاہیے کہ تم گندی بات منہ سے نہ نکالو۔ تم شور و غل نہ کرو۔ حتی کہ اگر کوئی شخص تم کو گالی دینے لگے تب بھی تم اس کے جواب میں گالی نہ دو بلکہ ایک طرفہ طور پر اس کو نظر انداز کر دو۔ یہ حدیث روزہ کی اسپرٹ کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں کھانے پینے کا ترک ایک علامتی ترک ہے۔ کھانے کا وقتی روزہ ایک اور مستقل روزہ کی تربیت ہے۔ یہ جزئی روزہ داری کے ذریعہ ایک وسیع تر روزہ داری کے لیے آدمی کو تیار کرنا ہے۔ اسلامی زندگی حقیقتاً ایک روزہ دارانہ زندگی ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بے قید بن کر نہ رہے۔ بلکہ وہ حرام و حلال میں فرق کرے۔ وہ میٹھا بول بولے اور کڑوا بول نہ بولے۔ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے اور بے انصافی والے سلوک سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ لوگوں کے حقوق ادا کرے اور حق تلفی سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ روزہ گویا ایک سالانہ کورس

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page