روزہ: اخلاقی ڈسپلن
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۵
ہے جس کے ذریعہ آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ سماج میں دوسروں کے ساتھ اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ رہ سکے۔
اخلاقی ڈسپلن کی زندگی یک طرفہ برداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آپ دوسروں کی طرف سے ناخوش گوار تجربہ پیش آنے کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ دوسروں کی زیادتی کو بھلا کر آپ ان سے معتدل انداز میں معاملہ کرسکیں۔ یہ ایک کڑی آزمائش ہے اس لیے آدمی کو رمضان میں کھانے پینے جیسی ناگزیر ضرورت کے معاملہ میں برداشت کی روش پر چلایا جاتا ہے۔ کیوں کہ جو شخص زیادہ بڑی چیز کو برداشت کرلے اس کے لیے چھوٹی چیز کو برداشت کرنا آسان ہو جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹی کے ساتھ رسی میں بندھا ہوا گھوڑا۔ وہ گھومتا ہے پھر وہ کھونٹی کی طرف واپس آجاتا ہے۔ روزہ بھی گویا اسی قسم کا ایک روک ہے۔ آپ روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں ایک شخص آپ کو کوئی بری بات کہہ دیتا ہے، آپ کو غصہ آجاتا ہے۔ مگر فوراً ہی پیاس کی وجہ سے سوکھا ہوا حلق آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ روزہ سے ہیں۔ آپ اپنے غصہ کو ضبط کر لیتے ہیں۔ اور کڑوا بول بولنے والے کو نرم انداز سے جواب دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ایک شخص آپ کو جسمانی تکلیف پہنچاتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اس کو تکلیف پہنچا کر اس سے انتقام لیں۔ عین اسی وقت بھوک کی وجہ سے نڈھال جسم آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ نے خدا کے لیے روزہ رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ کے ہاتھ اور پاؤں رک جاتے ہیں۔ جس آدمی سے آپ انتقام لینا چاہتے تھے اس کے لیے دعا کر کے بات کو وہیں ختم کر دیتے ہیں۔
شیطان مختلف مواقع پر آپ کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس وقت روزہ آپ کا مددگار بن جاتا ہے۔ روزہ کی تربیت اور روزہ کی عبادت سے آپ کے دل میں جو نرمی اور روح میں جو صفائی پیدا ہوتی ہے وہ آپ کے لیے شیطان کے حملوں کے مقابلہ میں ڈھال کا کام کرتی ہے۔ اور آپ کو شیطان کے فتنہ کا شکار ہونے سے بچالیتی ہے۔
نوٹ : یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی (نیشنل چینل) سے ۴ مارچ ۱۹۹۴ کو نشر کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues