Al-Risala · October 1995 · page 48

یکساں سول کوڈ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۸

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۰۲

ہندی اخبار دینک ہندستان کی نمائندہ مسٹر اشوک کنکر نے ۱۱ مئی ۱۹۹۵ء ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سپریم کورٹ کے کامن سول کوڈ کے حالیہ فیصلہ کے بارہ میں کہا گیا کہ اس قسم کا مقصد قانون سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ سماجی تبدیلی سے حاصل ہوتا ہے۔ جس قانون کو قبول کرنے کے لئے سماج تیار نہ ہو وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف برائی میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

۱۱ مئی ۱۹۹۵ء کو مسٹر راجندر کمار شاردور درشن کی ٹیم لے کر مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر چرار شریف (کشمیر) کی آتش زدگی سے تھا۔ جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے بہت برا کیا ہے۔ یہ درگاہیں روحانیت اور انسانی محبت کے مراکز ہیں۔ ان کو سیاسی ہنگاموں سے دور رکھنا چاہئے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثے نہ پیش آئے۔ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے ۱۳ مئی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کی آدھ گھنٹہ کی بات چیت نشر کی۔ اس میں ان کے ساتھ پروفیسر ریاض پنجابی شریک تھے۔ بات چیت کا موضوع کشمیر کی چار سو سالہ درگاہ چرار شریف کو جلا کر رکھ دینا تھا۔ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ شیخ نور الدین نورانی ایک صوفی تھے۔ ان کا مشن ہند و مسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا تھا۔ وہ سیاست اور تشدد سے بہت دور تھے۔ ایسی حالت میں ان کی درگاہ کو جنگجو یا نہ سیاست کا اڈہ بنانا سخت غلط تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۱ مئی کو یہ درگاہ مع بستی کے جلادی گئی۔

انگریزی روزنامہ ٹیلی گراف کے نمائندہ مسٹر سونانٹھا کرنے ۱۲ مئی ۱۹۹۵ء کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس کا تعلق سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلہ سے تھا جس میں حکومت ہند کو کامن سول کوڈ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بالکل غیر عملی فیصلہ ہے، اور غیر عملی فیصلہ ہمیشہ مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔ دیکھیے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page