یکساں سول کوڈ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹
مسائل کو حل نہیں کرتا۔
ٹائمز آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر عسکری زیدی نے ۱۲ مئی ۱۹۹۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے تھا جس میں حکومت ہند کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کامن سول کوڈ بنائے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستور کی دفعہ ۴۴ بلاشبہ کامن سول کوڈ کی تجویز کرتی ہے۔ مگر اسی دستور کی دفعہ ۲۵ مذہبی آزادی بھی دے رہی ہے۔ نکاح کا مسئلہ خالص ذاتی نوعیت کا ایک مذہبی معاملہ ہے۔ اگراس کی بھی آزادی نہ ہو تو دستور میں مذہبی آزادی کی دفعہ بے معنی ہو جاتی ہے۔
یونین آف کیتھولک ایشین نیوز (Union of Catholic Asian News) کے نمائندہ مسٹر اینٹو اکارا (Antoakkara) نے ۱۳ مئی ۱۹۹۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر یونیفارم سول کوڈ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ سیکولرزم کا مطلب لا مذہبیت نہیں ہے۔ چنانچہ ہندوستان کا دستور ایک سیکولر دستور ہے۔ اسی کے ساتھ اس میں مذہب کی آزادی بھی دی گئی ہے۔ مسٹر اشوک رائنا اور ان کی ٹیم ۱۶ مئی ۱۹۹۵ کو مرکز میں آئی اور دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کشمیر کے معاملہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خود کشمیریوں کے محبوب شاعر اقبال نے کہا ہے کہ : چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا۔ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ پھر کشمیری چند سیاسی کلیوں کے لئے کیوں لڑ رہے ہیں۔ انھیں سارے ہندوستان کو اپنا ملک سمجھنا چاہئے اور وسیع تر دائرہ میں پرامن طور پر اپنی تعمیر و ترقی کا کام کرنا چاہئے۔ پی ٹی آئی کی نمائندہ مسٹر اپنانے ۷ مئی ۱۹۹۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے تھا جس میں کامن سول کوڈ کی بات کہی گئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس قسم کے معاملات کا تعلق قانون سے نہیں ہوتا بلکہ سماجی روایات سے ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں سول میرج ایکٹ موجود
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues