Al-Risala · October 1995 · page 50

یکساں سول کوڈ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۵۰

ہے۔ مگر ایک فیصد ہندو بھی اس کے تحت شادی نہیں کرتے۔ ان کی ۹۹ فیصد سے زیادہ شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ہندو سماج ابھی سول میرج کے لئے تیار نہیں۔

۹| دور درشن کی ٹیم، ۱۷ مئی ۱۹۹۵ کو مرکز میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ٹاڈا قانون کے خاتمہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ صرف ٹاڈا کو ختم کرنے سے ظلم ختم نہیں ہو سکتا۔ ظلم کو ختم کرنے کے لئے پورے سسٹم کی اصلاح ضروری ہے۔ موجودہ کرپٹ سسٹم کے باقی رہتے ہوئے ظلم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ ۱۰| نیوز لینڈ (الہ آباد)، اور نئی زمین (دہلی) کی نمائندہ مسز شاداں احمد نے ۱۸ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ شریعت میں مداخلت ہے۔ جواب دیا گیا کہ مداخلت کا سوال تو اس وقت ہے جب کہ وہ زیر عمل آئے۔ موجودہ حالات میں تو وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔

۱۱| راشٹریہ سہارا (ہندی) کے نمائندہ مسٹر راکیش آریہ نے ۱۸ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سبب خود مسلمانوں کی نام نہاد لیڈر شپ ہے۔ یہ لیڈر شپ اپنی سوچ میں زمانہ سے پچھڑی ہوئی ہے۔ وہ کامپटीशन کے دور میں رزرویشن کی اصطلاحوں میں سوچتی ہے۔ اسی چیز نے مسلمانوں کو ہر میدان میں پیچھے کر دیا۔

۱۲ جن ستہ پارٹی کی دعوت پر ۱۹ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز نے گوڑ گاؤں (ہریانہ) کا سفر کیا اور وہاں ایک میٹنگ سے خطاب کیا۔ خطاب کا موضوع یہ تھا کہ ملک کی تعمیر ترقی کے لئے کیا کرنا چاہئے ۔ اس پارٹی کے صدر جسٹس دیبی سنگھ تیوتیا ہیں۔ ۱۳ 20 مئی ۱۹۹۵ کو کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں دھرم چار یہ سمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور تفریقی سیاست کی برائی پر ایک تقریر کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page