خوف خدا
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰۸
خوف خدا
عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن الحكم الاموى (۱۰۱-۶۱ھ) کا درجہ اسلام میں اتنا بڑا ہے کہ ان کو پانچویں خلیفه راشد (خامس الخلفاء الراشدین) کہا جاتا ہے۔ ان کی مدت خلافت ڈھائی سال ہے۔ ان کے حالات پر کئی مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً :
ابن الجوزی سیره عمر بن عبد العزيز عبد الله بن الحكيم سيرة عمر بن عبد العزيز عبد الرؤف المناوی سيرة عمر بن عبد العزيز احمد زکی صفوت عمر بن عبد العزيز عبد العزيز سید الاہل الخليفة الزاهد اموی خلفاء میں وہ واحد خلیفہ ہیں جن کا اعتراف ان کے بعد عباسیوں نے کیا۔ شیعہ حضرات کے درمیان بھی ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہل اسلام کے علاوہ غیر مسلموں میں بھی ان کا غیر معمولی اعتراف کیا گیا۔ محمد بن مصعب کہتے ہیں کہ میں شاہ روم کے یہاں گیا تو اس کو مغموم حالت میں زمین پر بیٹھا ہوا پایا۔ میں نے حال پوچھا تو اس نے کہا، کیا تم کو معلوم نہیں کہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا حادثه۔ اس نے کہا کہ مرد صالح کا انتقال ہو گیا۔ میں نے پوچھا کہ کون ۔ شاہ روم نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز ۔ میرا خیال ہے کہ عیسی بن مریم کے بعد اگر کوئی شخص مردہ کو زندہ کرنے والا ہوتا تو یقیناً وہ عمر بن عبدالعزیز ہوتے۔ ایک مسیحی راہب کو لوگوں نے روتے ہوئے دیکھا۔ پوچھا کہ تم کیوں رو رہے ہو۔ اس نے کہا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ زمین پر ایک نور تھا، مگر اب وہ نور نہیں رہا۔
عمر بن عبدالعزیز کی موت کے بعد کچھ لوگ ان کی اہلیہ کے پاس گئے اور کہا کہ ان کی کوئی خاص بات بتائیے۔ اہلیہ نے کہا کہ خدا کی قسم، عمر نماز اور روزہ میں تم سے زیادہ نہ تھے۔ مگر خدا کی قسم، میں نے کبھی کسی انسان کو نہیں دیکھا جو عمر سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ واللہ ما كان عمر اكتركم صلاة ولا صياماً ولكنّي والله ما رأيت عبد الله قط كان اشد خوفا لله من عمر )
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues