Al-Risala · November 1995 · page 209

احتیاطی تدبیر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰۹

احتیاطی تدبیر

فطرت کا ایک اصول پیشگی احتیاط ہے۔ اسی اصول کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں میں احتیاطی تدابیر (precautionary measures) اختیار کی جاتی ہیں۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر پیشگی تدبیر اختیار کرلی جائے تو متوقع حادثہ پیش نہیں آتا۔ مثال کے طور پر ہرنیا ایک بیماری ہے۔ جس آدمی کو یہ بیماری ہو جائے اس کو آپریشن تھیٹر میں جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر اس بیماری کی پیشگی تدبیر تقریباً یقینی طور پر اس کوظہور میں آنے سے روک دیتی ہے۔ یہ پیشگی تدبیر انڈرویئر کا استعمال ہے۔ ہرنیا کبھی اچانک نہیں ہوتا۔ اس کی ابتدائی علامت بہت پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ ابتدائی علامت ظاہر ہوتے ہی وہ مخصوص انڈرویئر پہننا شروع کر دے تو وہ اس بیماری میں مبتلا ہونے سے بچ جائے گا۔

موجودہ زمانہ میں کھلاڑیوں کے استعمال کے لئے بہت عمدہ قسم کے انڈرویئر بنائے گئے ہیں۔ ان کو ایتھلیٹک سپورٹر (athletic supporter) کہا جاتا ہے۔ یہ ایتھلیٹک سپورٹر گویا نہایت مؤثر قسم کی پیشگی تدبیر ہے جو ہرنیا کی بیماری سے بچاؤ کی تقریباً یقینی ضمانت ہے۔ اسی طرح اجتماعی جھگڑوں کے لئے بھی پیشگی تدابیر ہیں۔ یہ تدبیریں اجتماعی جھگڑوں کو روکنے میں نہایت مؤثر ہیں۔ مثلاً باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنا ، افواہوں کی بروقت تردید کرنا ، بستی میں امن کمیٹی بنانا ، اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کا انداز اختیار کرنا ، فریق ثانی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کو ایک انسان سمجھ کر اس سے برادرانہ معاملہ کرنا۔ نزاع اگر عملاً پیش آجائے تو لو اور دو کے اصول پر معاملہ کو ختم کرنا۔ جس شخص یا گروہ کے ساتھ نزاع پیش آگئی ہے اس سے حریفانہ طریقہ کے بجائے برا درانہ طریقہ اختیار کرنا۔ وغیرہ موجودہ دنیا کے خالق نے ہر معاملہ میں پیشگی بچاؤ کے طریقے رکھ دئے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ان طریقوں کو دریافت کرے اور ان کو استعمال کرکے اپنے آپ کو ان کی زد میں آنے سے بچائے۔

رسالہ، نومبر ۱۹۹۵ء

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page