ترقی کا زینہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱۰
ترقی کا زینہ
جی ڈی برلا ہندوستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے برٹش دور میں معمولی حیثیت سے آغاز کیا اور اپنی زندگی ہی میں افسانوی حیثیت حاصل کرلی۔ وہ بجاطور پر ہندوستانی صنعت کے معماروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
برلا کی ایک سوانح حیات چھپی ہے جس کا نام ہے کرم یوگی گھنشام جی اس کتاب کا دیباچہ ان کے صاحبزادے کے برلانے لکھا ہے۔ یہ دیباچہ ہندوستان ٹائمس (۲۰ اپریل ۱۹۹۴) نے اپنے خصوصی شمارہ میں شائع کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جی ڈی برلا ابتداڈ کولکتہ کی ایک برٹش فرم میں بروکر (دلال) تھے ۔ وہ محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنا کام کرتے تھے اس لئے متعلق افراد ان سے خوش رہتے تھے ۔ برلا بظاہر اپنے کام پر مطمئن تھے ۔ ان کے دل میں کبھی خیال آتا تھا کہ خود اپنی کوئی انڈسٹری لگائیں۔ مگر حالات کے اعتبار سے اس طرح کا فیصلہ لینا آسان بھی نہ تھا۔ چنانچہ بروکر کی حیثیت سے وہ اپنے کام میں لگے رہے ۔
ایک روز ایسا ہوا کہ کمپنی کی بلڈنگ میں اوپر جانے کے لئے برلا ایک لفٹ میں داخل ہوئے ۔ اس میں ایک انگریز تھا۔ اس نے برلا کو یہ کہہ کر باہر نکال دیا کہ یہ لفٹ انڈین کے استعمال کے لئے نہیں ہے۔ یہ واقعہ توہین آمیز اور اشتعال انگیز تھا۔ لیکن برلا نے ایسا نہیں کیا کہ اس کے بعد وہ انگریزوں پر اپنا غصہ اتارنے میں مصروف ہو جائیں۔ اس کے بجائے یہ واقعہ ان کے لئے ایک مہمیز بن گیا۔ برلا کے فرزند کی زبان میں، لفٹ کے واقعہ نے انھیں شدید طور پر متاثر کیا۔ اور ان کو فوری فیصلے تک پہنچانے کا سبب گیا: The lift incident acted as a catalyst and made him take an early decision. (p. 8)
برلا نے کمپنی کا کام چھوڑ دیا۔ اور ذاتی کاروبار کے میدان میں داخل ہو گئے ۔ وہ یکسوئی کے ساتھ محنت کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ ملک کے عظیم صنعت کار بن گئے۔ زندگی میں حادثات کا پیش آنا بھی فطری ہے۔ دانش مند وہ ہے جس کے لئے حادثہ مزید ترقی کا زینہ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues