Al-Risala · November 1995 · page 212

مذہبی استدلال

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱۲

ذریعہ ثابت نہیں ہوتے۔ مگر ٹھیک یہی بات دوسرے تمام امور کے بارہ میں ہے۔ مثال کے طور پر مسٹر خوشونت سنگھ نے جس میز پر بیٹھ کر یہ الفاظ لکھے ہیں، اس کا معاملہ بھی اتناہی مشتبہ ہے جتنا کہ ان کے نزدیک مذہبی عقائد کا معاملہ۔ کیوں کہ یہ میز بظاہر ایک محسوس صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔ مگر سائنسی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ کوئی دکھائی دینے والی چیز نہیں۔ اس دنیا میں آدمی جس چیز کو بھی مانتا ہے، قرائن کی بنیاد پر مانتا ہے نہ کہ محسوس دلائل کی بنیاد پر۔ کیوں کہ محسوس دلائل قائم کرنا کسی بھی چیز پر ممکن نہیں۔ ہر آدمی، حتیٰ کہ تشکک بھی اس اصول کو مانتا ہے۔ اگر وہ نہ مانے تو وہ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اس اصول کو نہ ماننے کی صورت میں وہ ہر چیز، حتیٰ کہ کھانے اور پانی پر بھی شک کرے گا۔ پھر وہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔

اس اصولی وضاحت کے بعد اب اصل سوال پر آیئے ۔ مسٹر خوشونت سنگھ ریان کی طرح کے دوسرے لوگوں کے، ان سوالات کا جواب یہ ہے :

۱۔ ہم عدم سے وجود میں آئے ہیں۔ اور ہم کو خدا نے پیدا کیا ہے۔

۲۔ دنیا میں ہماری زندگی کا مقصد آزمائش ہے، یہاں ہم خدا کی طرف سے حالت امتحان میں ہیں۔

۳۔ موت کے بعد ہم عالم آخرت کی طرف چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے موجودہ ریکارڈ کے مطابق اس کا انجام پائیں۔

یہ جوابات کیوں صحیح ہیں۔ وہ اس لئے صحیح ہیں کہ تمام قابل حصول قرائن اس کی صحت کی تائید کرتے ہیں۔ اس میں فطرت انسانی کے مطالبات کی تکمیل ہورہی ہے۔ اور اس معاملہ کی اس سے بہتر کوئی اور توجیہ ابھی تک سامنے نہ آسکی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج۔ زندگی اور کائنات سے متعلق کوئی بھی چیز جس کو ہم مانتے ہیں اس کو اسی طرح قرائن کی بنیاد پر مانتے ہیں۔ تمام چیزوں کو ہم علم ظنی ہی کی بنیاد پر مانتے ہیں نہ کہ علم قطعی کی بنیاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک دیانت دار آدمی کے لئے صرف دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ وہ تمام چیزوں کو یا تو قرائن کی بنیاد پر مانے یا کسی بھی چیز کو نہ مانے۔ مسٹر خوشونت سنگھ جیسے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ تھرڈ آپشن لے رہے ہیں۔ جب کہ تھرڈ آپشن ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page