Al-Risala · November 1995 · page 213

اسلام مذہب امن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱۳

اسلام مذہب امن

یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ اوہوں نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھے۔ اس سلسلے میں وہ ایک غیر مسلم ادارہ میں انٹرویو کے لئے گئے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو ر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو۔ نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر انٹرویو ر نے فوراً کہا کہ پھر تو تم دہشت گرد ہو: Then you are a terrorist. موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ایک طبقہ کے کٹر پن اور اس کی جنگ جو یانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اسلام دہشت گردی (terrorism) کا مذہب ہے۔ اسلام اپنا مقصد جنگ اور تشدد کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر خلاف واقعہ ہے۔

اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، نہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانچا جائے گا نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے۔ اگر کچھ مسلمان دہشت گردی کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں نہ کہ اسلام۔ ان کے اسلامی نعرہ کی وجہ سے ان کا عمل اسلام کا عمل نہیں بن جائے گا۔

اسلام پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کے نمونہ حیات کا نام ہے۔ اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر تھے، وہ جنگ کے پیغمبر نہیں تھے۔ اسی لئے قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے تم کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب رکھا۔ عرب ایک جنگجو قوم تھے۔ چنانچہ وہ جنگی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page