Al-Risala · November 1995 · page 16

اسلام مذہب امن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶

میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول ہو وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے اسلام چاہتا ہے کہ ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم رہے۔ حتیٰ کہ امن کے قیام کے لئے اگر اہل اسلام کو یک طرفہ قربانی دینا پڑے تو یک طرفہ قربانی دے کر انہیں امن وامان کو قائم کرنا چاہئے۔

طریق کار ہمیشہ آدمی کے اپنے مشن کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اسی لئے دادا کا طریق کار ایک تاجر کے طریق کار سے مختلف ہوتا ہے۔ دادا کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ جتنے زیادہ اس سے خوف میں رہیں گے اتنا ہی زیادہ اس کو اپنا مقصد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے دادا یہ کرتا ہے کہ وہ تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی طاقت کا تجربہ کراتا ہے۔ کیوں کہ ڈر کی نفسیات اسی طریقہ کے ذریعہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر تاجر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاجر کا مقصد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ گرویدہ ہونے کے بعد ہی کوئی شخص ایک تاجر کے سامنے اپنی جیب خالی کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس لئے تاجر محبت اور صلح کا طریقہ اختیار کرتا ہے کیوں کہ محبت اور صلح کے ذریعہ ہی وہ کسی کو اپنا گاہک بنا سکتا ہے۔

اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اس لئے اسلام اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دادا دالاطریقہ اختیار کرے۔ اسلام کے لئے صرف تاجر والا طریقہ ہی مفید اور کارگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یک طرفہ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جنگ کے بجائے صلح اور تشدد کے بجائے امن کی تاکید کی گئی ہے۔

اسلام کا مقصد لوگوں کا ذہن بدلنا اور ان کا دل جیتنا ہے۔ اور اس قسم کا سنجیدہ کام صرف پر امن طور پر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page