اسلام مذہب امن
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انھوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق ، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع تھا کہ کعبہ کو از سر نو بن کر حطیم کو اس میں شامل کر دیں۔ مگر اس وقت کے حالات میں یہ ایک نزاعی کام تھا۔ چنانچہ نزاع سے بچنے کی خاطر آپ نے کعبہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جیسا کہ مشرکین نے اسے بنایا تھا۔ غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول اختیار اليسر کا مصداق نظر آئے گی۔ آپ نے ہمیشہ ہر معاملہ میں مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب فرمایا ہے۔ اسی اصول کو موجودہ زمانہ میں پر امن طریق عمل (peaceful method) کہا جاتا ہے۔
جنگ اور تشدد کا طریقہ اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ جنگ باز آدمی تشدد کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کے لئے بالکل اجنبی ہے۔ کیوں کہ اسلام کا مقصد دل و دماغ کو بدلنا ہے اور دل و دماغ کو بدلنے کا کام تشدد کے ذریعہ کیا جانا ممکن نہیں۔ دل و دماغ کو بدلنے کا کام نصیحت (persuasion) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ طاقت (force) کے ذریعہ۔
اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ لوگ آخرت کی جواب دہی کے احساس میں جینے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ اعلی روحانی اوصاف پیدا ہوں جن کو تقویٰ ، خشیت ، انابت، تضرع، ، اخبات ، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ لوگ حق کو پہچاننے والے اور حق کا اعتراف کرنے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ ربانی شخصیت پرورش پائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔
یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے اور جنگ یا تشدد کے ذریعہ اس مطلوب کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے ، اور وہ پر امن دعوت و تبلیغ ہے۔ اسلام کے طریق کار کو ایک لفظ میں دعوتی طریقہ کہا جا سکتا ہے نہ کہ جنگ جویانہ طریقہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور دعوتی عمل صرف پر امن حالات
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues