Al-Risala · November 1995 · page 18

الفصل بین القضیتین

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸

19 ذی الحجه ۱۴۱۵ ھ ۔ ( ۱۹ مئی ۱۹۹۵ )

یہ ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ ہے، جس کے بارے میں قرآن وسنت کی بنیاد پر کوئی عملی موقف اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ محض ذاتی احساس یا قومی غیرت وحمیت کی بنیاد پر۔ فلسطین اور بیت المقدس پر یقیناً اہل اسلام کا حق ہے۔ اس کی آزادی کے لیے ان کو پرامن ذرائع سے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم قرآن وسنت کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے خالص عبادتی مقصد کے تحت ایسے وقت میں بھی اس مقدس مقام کی زیارت ممنوع نہیں جب کہ وہاں غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی اعتراف نے بھی علی الاطلاق طور پر اس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مگر مذکورہ قسم کے فتاویٰ کی بنا پر دنیا کے مسلمان نسل درنسل اس عظیم سعادت سے محروم ہورہے ہیں کہ وہ مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوں اور تیسرے سب سے افضل مقام پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔ اگست ۱۹۹۵ میں یروشلم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کا اہتمام اٹلی کے عیسائیوں کی ایک جماعت نے کیا تھا۔ اور اس کا موضوع یہی خاص مسئلہ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر ایک مقالہ (انگریزی میں) پیش کیا۔ اس کا عنوان اسلام میں امن تھا:

Policy of peace in Islam اس مقالہ کو (اردو میں) ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

قر آن اپنے بتائے ہوئے طریقہ کو سبل السلام (المائدہ ۱۶) کہتا ہے۔ یعنی امن کے راستے ۔ قرآن میں صلح کی پالیسی کو سب سے بہتر پالیسی بتایا گیا ہے (النساء ۱۲۸ ) نیز فرمایا کہ خدا بد امنی کو پسند نہیں کرتا ( البقره ۲۰۵) حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ المؤمن من أمنه الناس علی دمائهم و أمو الهم (الترنذى، كتاب الايمان)، یعنی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک عملی سوال یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page