الفصل بین القضیتین
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹
موجودہ دنیا میں ہمیشہ کسی نہ کسی سبب سے لوگوں کے درمیان سیاسی یا غیر سیاسی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ افراد میں بھی اور قوموں میں بھی۔ مسلمانوں کے اپنے اندر بھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بھی۔ اب اگر لوگ اختلافات کو برداشت نہ کریں، بلکہ اختلاف کے پیدا ہوتے ہی اس کے خاتمہ پر اصرار کریں تو لڑائی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ ایسی حالت میں سوال ہے کہ امن کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔
اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اس کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ بلینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ یروشلم تین بڑے مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لئے ان کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لئے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لئے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور ان کی قومی تاریخ کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لئے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یادگار ہے۔ مسلمانوں کے لئے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔ اس طرح ان تینوں مذاہب کے لئے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آکر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لئے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لئے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔
آجکل ہر طرف القدس لنا کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues