رمضان کا روزہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۷
یہ انسان
آدمی پر جب آخری وقت آتا ہے اور جب اس کی جان حلق تک پہنچ جاتی ہے تو اس پر عالم غیب کی حقیقتیں کھل جاتی ہیں۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ ہم تم سے زیادہ اس شخص کے قریب ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے (الواقعہ (۸۵)
اس وقت اگر چہ آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ مگر اگلی دنیا کو وہ پوری طرح دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ دارالامتحان سے نکل کر دارالحجاز کے دروازہ پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ جس بات کو بتانے کے بعد بھی نہیں جانتا تھا ، اس کو وہ بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ یہ لمحہ بھی کیسا عجیب ہے جو ہر انسان پر لازمی طور پر آنے والا ہے ۔ آج آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ کھلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتا ۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ بند آنکھ سے دیکھے گا۔ آج آدمی دلائل کو سننے کے بعد بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ کل کا دن وہ دن ہوگا جب کہ وہ دلیل کے بغیر ہر چیز کو مان لے گا۔ آج وہ زبانی اقرار کی سطح پر حقیقت کو ماننے کے لیے آمادہ نہیں ، کل وہ سرا فگندگی کی سطح پر حقیقت کے آگے جھک جائے گا ، اگر چہ اس وقت کا جھکنا اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
آدمی کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ حقیقت کا اس وقت اعتراف کرے جب کہ حقیقت ابھی غیب کے پردہ میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ دیکھے بغیر مانے اور بھگتے بغیر احساس کرے۔ یہی آدمی کا اصل امتحان ہے۔ جو شخص اس امتحان میں پورا اترے وہ کامیاب ہے اور جو شخص اس امتحان میں پورا نہ اترے وہ ناکام ۔ نادان آدمی ظاہری عظمتوں کی سطح پر اسلامی اخلاق کا ثبوت دے رہا ہے ، حالاں کہ اس کو مخفی عظمتوں کی سطح پر اسلامی اخلاق کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی ان امور میں اسلامی قیادت کے فرائض انجام دے رہا ہے جو اخباروں میں نمایاں کی جاتی ہیں ، حالاں کہ اس کو ان امور میں اسلامی قیادت کی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے جو اخباروں کے صفحہ میں جگہ نہیں پاتیں۔ آدمی ان میدانوں میں سرگرمی دکھارہا ہے جن کا چرچا انسانوں کی محفل میں ہوتا ہے ، حالاں کہ اس کو ان میدانوں میں سرگرمیاں دکھانا ہے جن کا چرچا فرشتوں کے درمیان کیا جاتا ہے۔ لوگ آیات الہی کے بدلے دنیا خرید رہے ہیں، حالاں کہ انھیں آیات الہی کے ذریعہ آخرت کا سودا کرنا چاہیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues