Al-Risala · February 1995 · page 8

فساد فی الارض

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۸

فساد فی الارض

فلولا كان من القرون من قبلكم اولوا بقية ينهون عن الفساد فى الارض إلا قليلا ممن أنجينا منهم واتبع الذين پس کیوں ایسا ہو اک تم سے پہلے کی قوموں میں ایسے اہل بقیہ ہوتے جو لوگوں میں فساد کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے ہی لوگ نکلے جن کو ہم نے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی ظلمو اما الركو امنية وامرين وما كان ربك ليهلك القرى بظلم واهلها مصلحون ( ہود ۱۱۶ - ۱۱۷ )

ہارا پچھلا قوموں سے مراد دیکھا مسلم امتیر آسودگی میں پڑے رہے جو انھیں ملتا تھا اور وہ مجرم تھے۔ اور تیرا رب ایسا نہے: کر وہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالاں کہ اس کے باشندے مصلح ہوں۔ میں) پچھلی مسلم امتوں کا حال بتا کہ موجودہ مسلم یہاں پہلی قوموں سے مراد پچھلی مسلم امتیں ہیں۔ پہلی مسلم امتوں کا حال بتا کر موجودہ امت کو متنبہ کیا گیا کہ تم کو ان کی جیسی غلط روش سے بچنا ہے۔ ورنہ تمہارا بھی وہی انجام ہو گا جو ان کا انجام ہوا۔ خدا کی دنیا میں سب کے لئے ایک ہی قانون ہے ، یہاں ایک کو دوسرے پر کوئی امتیازی خصوصیت حاصل نہیں۔

بقیہ کا لفظ عربی زبان میں بہتر بقیہ کے لئے آتا ہے۔ فلان ذو بقية یا فلان بقية قومه کا مطلب ہے ، وہ اپنی قوم کے اخیار میں سے ہے۔ لسان العرب کے مطابق ، اولو البقیہ کے معنی ہیں، اصحاب تمیز یا اصحاب فہم (جلد ۱۴ ، صفحه ۸۱)۔ ابن جریر الطبری اپنی تفسیر میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

(اولوا بقية) يقول : ذو وبقية من الفهم والعقل اولو البقية یعنی فہم اور عقل رکھنے والے جو اللہ کے مواعظ (اروی جبیہ) ہوں:

يعتبرون مواعظ الله و يتدبرون حججه فيعرفون مالهم في الايمان بالله وعليهم في الكفر به (۱۲/ ۱۳۸)

قرآن کے مترجمین نے اولوقہ کا جو ترجمہ کیا۔ سے نصیحت لیں اور اس کے دلائل پر غور کریں، تاکہ وہ جانیں کہ ایمان باللہ کی انھیں کیا جزا ملے گی اور اللہ کے انکار پر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ہے، اس میں سے یہ نہ ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی: قرآن کے مترجمین نے اولو بقیہ کا جو ترجمہ کیا ہے، اس میں سے چند یہ ہیں ـــ شاہ ولی اللہ دہلوی: اہل خرد شاه عبد القادر دہلوی: صاحب شعور مولانا اشرف علی تھانوی: سمجھدار ۔ اس آیت میں اولو بقیہ کا صحیح ترجمہ یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page