عمومی انطباق
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵
مگر وہ ہر جگہ ممکن اسلامی انقلاب کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے ٹکرا گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ جدید کے بہترین امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے و مسلمانوں کے حصہ میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔
مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آجکل ایک جملہ بہت دہرایا جار ہا ہے : الاسلام دین و دولة یعنی اسلام مذہب بھی ہے اور حکومت بھی۔ اسی پس منظر میں ایک بیرونی سفر میں کچھ عرب نوجوانوں نے مجھ سے سوال کیا کہ مذہب اور حکومت کی علیحدگی کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے (مار ایک عن الفصل بين الدين والدولة )
میں نے کہا : اما كعقيدة فلا، واما كضرورة عملية فنعم۔ ۔ یعنی عقیدہ کے طور پر تو دونوں میں کوئی فصل نہیں ، مگر عملی ضرورت کے طور پر یقیناً دونوں میں فصل ہوتا ہے ۔ عقیدہ یا نظریہ ہمیشہ آئیڈیلیزم کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک عملی کورس کا تعلق ہے وہ ہمیشہ وقت کے حالات اور ضروریات کے تابع ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے جو کسی استثناء کے بغیر زندگی کے تمام معاملات سے متعلق ہے ۔ اور اسی طرح اس کا تعلق اسلام سے بھی ہے ۔ اعتقادی طور پر بلاشبہ اسلام میں مذہب اور سیاست دونوں شامل ہیں۔ مگر جب عمل کا منصوبہ بنانا ہو تو وقت کے حقیقی حالات کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہوگا۔ عقیدہ اور عمل کے اسی فرق کی بنا پر اسلام میں کسی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا گیا ہے ، خواہ وہ حکومت بظاہر غیر اسلامی ہو ، اور خواہ اس کے خلاف سیاسی اقدام کرنے والے بظاہر اسلام کے دعاوی کو لے کر اٹھے ہوں۔ کیوں کہ عملی نتیجہ کے اعتبار سے اس قسم کا اقدام فتنہ اور ظلم میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ وہ اس کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ ناموافق عملی حالات مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اتنی طاقت ور اور مستحکم ہو کہ دکھائی دیتا ہو کہ وہ اسلام کے علَمبر داروں کو کچل ڈالے گی ۔ حتی کہ وہ ایسے انقلابوں کی پیدائش کو روکنے کے لئے مسجد ، مدرسہ ، صحافت، تعلیمی نظام اور دوسرے تمام اداروں پر اپنا سخت کنٹرول قائم کرکے ہونے والے مواقع کا بھی خاتمہ کر دے گی۔ اس کا جو ظلم پہلے مخصوص دائرہ تک محدود تھا ، وہ عمومی طور پر پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues