Al-Risala · November 1995 · page 24

عمومی انطباق

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

ایسا گزرا ہے جب کہ یروشلم غیر مسلموں کے سیاسی قبضہ میں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب کہ مذہبی آزادی کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔ ہر طرف دنیا میں مذہبی جبر کا نظام رائج تھا۔ چنانچہ یروشلم پر مسیحی قبضہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کا وہاں داخلہ بھی عملاً بند ہو گیا۔ ایک عرصہ تک کے لئے مسلمان مسجد اقصی کی زیارت سے محروم کر دئے گئے۔

مگر ۱۹۶۷ میں جب یروشلم یہودی قبضہ میں آیا تو زمانہ بالکل بدل چکا تھا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کو ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا تھا۔ یہ زمانی فرق اتنا طاقتور تھا کہ یروشلم کے نئے حکمرانوں کے لئے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ مسجد اقصی میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر سکیں۔

تاہم مسلمان اس جدید امکان کو استعمال نہ کر سکے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ وہ زمانی فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ چنانچہ سابقہ روایت کے زیر اثر وہ یروشلم جانے سے رک گئے نئی حکومت نے کبھی انھیں یروشلم جانے سے نہیں روکا۔ بلکہ اپنے خود ساختہ تصور کے تحت انھوں نے بطور خود وہاں کا سفر کرنا ترک کر دیا۔

عمومی انطباق

اوپر شریعت کا جو اصول (الفصل بین القضيتين) بیان کیا گیا، اس کا تعلق صرف یروشلم یا بیت المقدس سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام شرعی اصول ہے اور وہ زندگی کے ہر نزاعی مسئلہ پر چسپاں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح اس شرعی اصول سے ناواقفیت کی بنا پر مسلمان مسلسل طور پر ایک عظیم نعمت (مسجد اقصی میں داخل ہو کر وہاں نماز ادا کرنا) سے محروم ہو رہے ہیں، اسی طرح وسیع تر اجتماعی زندگی میں اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں زبردست نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لئے ہر جگہ دینی اور دعوتی سرگرمیوں کے مواقع کھول دئے ہیں۔ مگر مسلمان ان قیمتی مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ ۴۱- کا واحد سب سے بڑا سبب الفصل بين القضيتين کے شرعی اصول کو ملحوظ نہ رکھنا ہے۔ اس اصول کا تقاضا تھا کہ مسلمان دینی پہلو اور سیاسی پہلو کو الگ الگ رکھتے۔ وہ سیاست اس کے مخصوص دائرہ میں رکھتے ہوئے دینی اور دعوتی امکانات کو بھر پور طور پر استعمال کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page