عمومی انطباق
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷
تعداد میں موجود ہوں ۔ اگر معاشرہ میں علیٰ جیسے افراد نہ ہوں تو صحابی کی حکومت کے باوجود حقیقی معنوں میں کوئی بہتر نظام قائم کرنا ممکن نہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ دین اور حکومت دونوں اگرچہ اعتقادی طور پر ایک ہیں مگر عملی تقاضے کے تحت دونوں کو الگ الگ دیکھنا ہوتا ہے ۔ ایک حصہ دین کا وہ ہے جس کی تعمیل فرد کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے ۔ ایسے احکام ہر وقت ہر فرد پر فرض رہیں گے ۔ افراد کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کریں ۔
دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو عمل میں لانے کا انحصار اجتماعی حالات اور اجتماعی مرضی پر ہوتا ہے ۔ احکام دین کے اس دوسرے حصہ میں پہلے اس کے موافق اجتماعی ارادہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
” اسلام میں دین اور سیاست ایک ہیں “ کا نعرہ لگا کر اگر کوئی شخص پہلے ہی مرحلہ میں اجتماعی قوانین کے نفاذ کی مہم چلائے ، یا حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ با اقتدار ہو کر اجتماعی قوانین کو نافذ کر سکے ، تو ایسے اقدامات سراسر غیر اسلامی اور غیر مطلوب ہوں گے ۔ ایسا ہر اقدام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد پیدا کرنا ہے نہ کہ احکام اسلامی کا نفاذ کرنا ۔ عقیدہ اور عمل میں برائے ضرورت تفریق کا یہ معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے سارے اسلامی احکام میں پایا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زکوٰۃ اور حج کو عقیدہ کے اعتبار سے فرض سمجھے ۔ مگر ان کی عملی ادائیگی کی ذمہ داری صرف اس شخص کے اوپر ہے جو اس کی عملی شرطوں پر پورا اترتا ہو ۔ اس لئے الفصل بین القضیتین کی حکمت سارے ہی دینی معاملات میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔
موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں ۔ وہ اس کی ذمہ داری دشمنان اسلام کے اوپر ڈال رہے ہیں جنہوں نے اپنی سازشوں کے ذریعہ انہیں اس حالت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے ۔ حتیٰ کہ وہ خود اسلام کی تردید ہے ۔ کیوں کہ قرآن وحدیث کے مطابق ، خدا اہل ایمان کا مددگار ہوتا ہے ۔ پھر کیوں کر ایسا ممکن ہے کہ اہل کفر اہل اسلام کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنائیں اور خدا اہل اسلام کی حمایت نہ کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues