Al-Risala · November 1995 · page 28

عمومی انطباق

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۸

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان آج جن مشکل حالات میں گھر گئے ہیں وہ یقینی طور پر مصنوعی ہیں۔ یہ الفصل بین القضیَتین کی سنت رسول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے بطور خود یہ نظریہ بنایا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو اس وقت تک دین پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ہر جگہ انھوں نے غیر ضروری طور پر سیاسی حکمرانوں سے لڑائی چھیڑ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہترین دینی امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ مسلمانوں کا ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ مسلمان آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا راستہ ہر طرف سے بند ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی کسی گروہ کے لئے راستہ بند نہیں ہوتا۔ البتہ بعض اوقات وہ گروہ خود اپنی نادانی سے اپنا راستہ بند کر لیتا ہے۔ یہی آج مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ مسلمان مذکورہ سنت رسول پر عمل نہ کر سکے ۔ انھوں نے دین کے معاملہ کو سیاسی اقتدار کے معاملے سے الگ نہیں کیا۔ وہ ہر جگہ حکمراں طبقہ سے ٹکرا گئے ۔ کیوں کہ انھوں نے غلط طور پر یہ سمجھ لیا کہ جب تک اقتدار پر قبضہ نہ ہو، دین کے اوپر مکمل طور پر عمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بلاشبہ ایک وسوسہ ہے نہ کہ کوئی دینی حقیقت ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی معاملہ کو سیاسی اقتدار کے سوال سے الگ کر دیں۔ اور اقتدار کی تبدیلی سے پہلے جو مواقع انھیں حاصل ہیں، ان کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔ اس حکمت نبوی پر عمل کرتے ہی وہ دیکھیں گے کہ ان کے لئے تمام دروازے کھل گئے ہیں، زندگی کا کوئی بھی در وازہ ان کے اوپر بند نہیں۔ انگلینڈ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابیں ملنے کا پتہ:

Assalam International Ltd. 481, Coventry Road, Birmingham B10 0JS Tel. 0121-773 7117, Fax: 0121-773 7771

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page