سفرنامہ یورپ ۲
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ یہاں ایڈوانٹیج بھی ضرور پایا جائے گا۔ اور انڈیا یقینی طور پر کوئی مستثنیٰ ملک نہیں۔ چنانچہ انڈیا میں اگر ایک بابری مسجد ڈھائی گئی ہے تو اس کے بعد بھی انڈیا میں ساڑھے تین لاکھ مسجدیں باقی ہیں۔ اور وہاں پوری آزادی کے ساتھ عبادت کا عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا میں اگر ایک عرصے تو عین اسی وقت وہاں یسر کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے۔ اس لئے ہمارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔
مرکز کے اس اجتماع میں ایک اطالوی نوجوان بھی موجود تھا۔ ان سے پہلی ملاقات یہیں ہوئی وہ سائنس کے مضمون میں پوسٹ گریجویٹ کا کورس کر رہے ہیں۔ وہ ایک سادہ فطرت نوجوان تھے۔ اسلام سے کچھ واقفیت ہوئی۔ اس سے وہ متاثر ہو گئے۔ اب وہ اسلام کے برحق ہونے پر پوری طرح مطمئن ہیں۔ ان کے کمرہ میں اسلامی کتابیں سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی ماں کٹر مسیحی ہیں۔ ان کے اندر تڑپ ہے کہ وہ باقاعدہ نماز ادا کریں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ اگر انھوں نے نماز پڑھنا شروع کیا تو ان کی ماں سخت ناراض ہوگی اور پھر اس کے بعد انھیں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں گی۔
کسی مسلمان سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس نے ان کا کیس سننے کے بعد کہا کہ جب آپ اسلام کو اپنا مذہب مان چکے ہیں تو اب تمہارے لئے نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ تم جہنم میں جاؤ گے۔ وہ نوجوان اس سے بہت گھبرایا ہوا تھا۔ مجھ سے گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مذکورہ مسلمان نے آپ کو غلط بتایا۔ قرآن میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان کے اوپر بقدر استطاعت ذمہ داری ہے۔ آپ کو جب موقع ہو پردہ میں نماز پڑھ لیں ۔ مگر اعلان کے ساتھ آپ نماز نہ پڑھیں۔ فی الحال سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی تعلیم مکمل ہو جائے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ کہیں بھی رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے لئے اس قسم کا مسئلہ نہیں رہے گا۔
مذکورہ قسم کے مسلمانوں کے بارہ میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ وہ مسائل فقہ کو جانتے ہیں۔ مگر وہ مسائل دعوت کو نہیں جانتے۔
مغرب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان بود ساموت الحسین (۱۹۶۴ء) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا اصل
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues