Al-Risala · November 1995 · page 31

سفرنامہ یورپ ۲

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱

نام الحسین ہے اور بود ساموت خاندانی لقب ہے۔ دوسرے ملکوں میں خاندانی نام آخر میں ہوا ہے اور مغرب میں فرانس کے اثر سے پہلے لکھا جاتا ہے۔ جیسے کہ میرا نام وحید الدین خان لکھا جاتا تا ہے۔ مغرب کے اصول پر لکھنا ہو تو اس کو خان وحید الدین لکھا جائے گا۔

بود ساموت الحسین بولونیا میں رہتے ہیں جو میلان سے تین سو کلو میٹر دور اٹلی کا ایک شہر ہے۔ پچھلی شام کو انھوں نے ٹی وی پر مجھ کو گور با چیف سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا۔ اس سے انھیں معلوم ہو کہ اس وقت میں میلان میں ہوں۔ وہ رات کو سفر کر کے صبح سویرے میلان پہنچے اور ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کی۔

انھوں نے بتایا کہ میں اطالویوں میں دعوت کا کام کر رہا ہوں۔ مگر اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ نام نہاد مسلم جماعتوں کے لوگ یہاں ہر شہر میں موجود ہیں۔ وہ صرف ایک کام میں مشغول ہیں۔ مسلم حکمرا نوں کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھار کر مال جمع کرنا اور لیڈری حاصل کرنا۔ خالص دعوت کے کام کو وہ پسند نہیں کرتے کیوں کہ اس میں انھیں اپنی جڑ کٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بہت سے لوگ حق کے متلاشی ہیں۔ مگر وہ ان کے لئے ہدایت کا دروازہ بند کر رہے ہیں (و بهذا المنهج المنحرف يتم اغلاق أبواب الهداية عوض فتحها امام الباحثين عن الحق، وما أكثرهم)

میں نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا۔ اسلامی تحریکات کے نام پر آجکل جو جماعتیں ہر جگہ کام کر رہی ہیں وہ اپنے منحرف فکر کی بنا پر صحیح اسلام کی راہ میں سخت رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ مگر آپ جیسے لوگوں کے لئے مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دشواریوں کے اضافے سے اجر میں اضافہ ہوتا ہے (مع كثرة العراقيل يزداد الأجر)

ایک پروگرام میں شنتو مذہب کے عبادتی پروگرام کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شخص سیدھا کھڑا ہوا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ باندھے۔ اس کے بعد وہ چند بار رکوع کے انداز میں جھکا۔ اس کے بعد چھوٹی سی کتاب لے کر اس سے پڑھنا شروع کیا۔ غالباً یہ دعا کی کتاب تھی۔ دوسرے مذاہب کی عبادت میں جھکنا ہے مگر سجدہ نہیں ہے۔ جھکنا اطاعت کی علامت ہے اور سجدہ قربت کی علامت۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کی عبادتیں اطاعت کا سبق دیتی ہیں مگر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page