Gestione Telecomunicazioni S. R. L.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۲
وہ آدمی کو قربتِ خداوندی کا تجربہ نہیں کراتیں۔ یہ اسلام کی خاص صفت ہے، جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے واسجد و اقترب۔
۲۲ ستمبر کی صبح کو اطالین ٹی وی نے انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق انڈیا میں اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کے مواقع موجود ہیں۔ اخباروں میں جو باتیں آتی ہیں وہ حقیقت سے زیادہ مبالغہ ہیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجودھیا کی مسجد مسلمانوں نے کھودی۔ مگر عین اسی زمانہ میں دہلی میں دو درجن مسجدیں غیر مسلموں کے قبضہ میں تھیں اور ان مسجدوں کو مسلمان دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس فرق کا سبب طریق کار کا فرق ہے۔ اجودھیا میں مسلم لیڈروں نے اپنی تحریک ٹکراؤ کے انداز میں چلائی اور دہلی کی مسجدوں کو واگزار کرانے کی تحریک پر امن انداز میں چلائی گئی۔ طریق عمل کے اسی فرق کی وجہ سے مسلمانوں نے اجودھیا کی مسجد کھودی۔ اور دہلی کی مسجدوں کو حاصل کر لیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن جدید دنیا کے لئے ایک خدا اور ایک انسان کا نظریہ ہے۔ یہ نظریہ ایک طرف آدمی کو صحیح ڈائرکشن دیتا ہے، اور دوسری طرف تمام انسانوں کو یکساں بنیاد پر متحد کرتا ہے۔
میلان میں ایک اور پرائیویٹ ٹیلیویژن (Tele Chiara) نے انٹرویو لیا۔ یہ کیتھولک ٹی وی کہا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام یہ ہے:
Gestione Telecomunicazioni S. R. L.
انھوں نے مختلف سوالات کئے ۔ میں نے انگریزی میں جواب دیا جس کا ترجمہ ڈاکٹر اندریا دلو کار اوم اطالوی زبان میں کرتے رہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ پیس کانفرنس کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ عالمی پر امن اس کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں ایک پر امن جاری ہوا ہے۔ ساری دنیا جنگ اور ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ کی طرف جارہی ہے۔ یہ ایک عالمی پر امن ہے جو انسانی تاریخ میں جاری ہوا ہے۔ موجودہ کانفرنس اسی کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح کا پر امن جب تاریخ میں جاری ہو جائے تو لازمی طور پر وہ اپنے نتیجہ تک پہنچ کر رہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues