Al-Risala · November 1995 · page 34

Arabs count the cost of peace.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴

سعودی عرب میں ” "ماڈرنائزیشن" “ کا عمل تیزی سے جاری ہو گیا ہے جو یہاں کے ہر شعبہ میں محسوس طور پر نظر آتا ہے۔ ایک مضمون کا عنوان تھا :

Arabs count the cost of peace.

اس میں بتایا گیا تھا کہ 1979 میں ایران کے ” اسلامی ریوولیوشن “ کے بعد سعودی عرب پہلے سے زیادہ امریکہ پر (dependent) ہو گیا۔ کیوں کہ اس انقلاب کے بعد ایران اسلامک ورلڈ کی لیڈر شپ حاصل کرنے کے لئے سعودیہ کا حریف بن گیا تھا۔ اب ویسٹرن ٹیکنالوجی کے لئے ریاض کی ضرورت بہت بڑھ گرتی۔ سعودی عرب ساری دنیا کے مسلمانوں کو بہت بڑی مالی امداد دیتا ہے۔ 1992 میں سعودیہ نے مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو 800 ملین پونڈ دئے۔ عراق ۔ کویت جنگ میں سعودیہ نے 37 بلین پونڈ خرچ کیا۔

سعودیہ نے اس سے پہلے عراق کی بڑے پیمانہ پر مالی مدد کی تھی مگر 1992 میں جب سعودیہ پر عراقی میزائل (scud missiles) گرنے لگے تو معلوم ہوا کہ پیسہ اچھے تعلقات کے لئے کافی نہیں۔ اردن اور پی ایل او کو سعودی عرب سے بہت بڑی مالی امداد مل رہی تھی۔ مگر دونوں نے عراق کا ساتھ دیا۔ یمن کا بہت بڑا اقتصادی انحصار سعودی عرب پر تھا مگر وہ بھی عراق کا ساتھی بن گیا۔ اس پورے علاقہ میں ایران کا خطرہ ایک مستقل مسئلہ تھا۔ ان چیزوں نے سعودی عرب کو اس قطعی رائے تک پہنچا دیا کہ وہ عربوں یا مسلم ملکوں کے مقابلہ میں مغربی ٹکنالوجی کے ذریعہ اپنے آپ کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔

مغربی پریس کتنی مہارت کے ساتھ چیزوں کو پیش کرتا ہے، اس کی ایک مثال ٹائمس کا صفحہ ہم کا ایک مضمون تھا۔ اس مضمون کے اوپر ایک تصویر دی گئی تھی جس کو ہم اس صفحہ کے نیچے نقل کر رہے ہیں۔ فلسطین کے ایک بے حد چھوٹے سے علاقہ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو محدود آزادی (limited autonomy) کا حق دیا ہے۔ یہاں فلسطینیوں نے ایک سرحدی دیوار پر جلی حرفوں میں یہ لکھ دیا ہے : پی ایل او کی مملکت میں خوش آمدید۔ اس کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہوا تھا کہ مشرق اوسط کی تاریخ کے ایک نازک موقع پر ، تیل کی گئی ہوئی قیمتوں اور خلیج کی جنگ کی قیمت نے سعودیون اور فلسطینیوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

24 دی العرب، 3 نومبر 1995

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page