All other passports
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵
فلسطینی سمیت پوری مسلم دنیا ستمبر ۱۹۹۳ سے پہلے فلسطین سے اسرائیلی حکومت ختم کرنے سے کم کسی بات کو سننے پر راضی نہ تھی۔ مگر آج اس کے محدود ٹکڑے پر وہ خوش آمدید کے الفاظ رقم کر رہے ہیں۔ شعوری فیصلہ کے تحت وہ حقیقت پسندی کو اختیار نہ کرسکے۔ مگر حالات کے دباؤ نے انھیں حقیقت پسندی کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
یہی ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال ہے۔ فیصلہ صرف وہ ہے جو شعور اور ارادہ کے تحت ظہور میں آیا ہو۔ دباؤ کے تحت کیا جانے والا فیصلہ کوئی فیصلہ نہیں۔ اور نہ ایسے فیصلہ کا کوئی دور رس نتیجہ کبھی برآمد ہو سکتا ہے۔
۲۴ ستمبر کو دو بجے لندن پہنچا۔ جہاز سے اتر کر ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ تین دروازے بنے ہوئے تھے۔ دو دروازوں پر لکھا ہوا تھا :
European Community Nationals اور ایک کنارے کے دروازہ پر یہ الفاظ تھے :
All other passports
یہ صرف گزر گاہ کے لئے تھا۔ انتظامی ضرورت کے تحت ایسی تقسیم میں کوئی حرج نہیں مگر مجرد گزر گاہ کے لئے یہ تقسیم racism کی طرف لے جاتی ہے۔
جس فلائٹ سے ہمیں لندن پہنچنا تھا چوں کہ وہ میلان میں چھوٹ گئی اور ہم دوسرے جہاز سے لندن پہنچے۔ اس لئے لندن ائیر پورٹ پر جو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے آئے تھے وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے ۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ تھا کہ ان سے کس طرح ربط قائم کیا جائے ہم نے برمنگھم میں جناب شمشاد خاں صاحب کو خبر دی کہ ہم لندن ائیر پورٹ پر ہیں۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لندن کے ساتھیوں نے بھی شمشاد خاں صاحب سے برائے معلومات ربط قائم کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لندن ائیر پورٹ پر پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ وہ دوبارہ ائیر پورٹ پر آئے اور آگے کے لئے ہماری رہنمائی کی۔ کیوں کہ ہمیں بذریعہ ٹرین وگن پہنچنا تھا۔
۲۳ ستمبر کی دوپہر کو ہم برٹش ریلوے اسٹیشن ایوسٹن (Euston) پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ٹرین جلد ہی آنے والی تھی جس کے ذریعہ ہمیں وگن جانا تھا۔ اتنے میں پولیس کی وردی میں کئی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues