Al-Risala · February 1995 · page 9

فساد فی الارض

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۹

فساد فی الارض سے روکنا اور انسانی معاشرہ میں اصلاح کا ماحول پیدا کرنا انتہائی اہم ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت زیادہ مطلوب کام ہے۔ مگر یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ نہایت دانشمندی کا کام ہے۔ اس کو صرف وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو فہم و بصیرت کے مالک ہوں ۔ جن کی نظر صرف ظاہری حالات پر نہ ہو بلکہ چھپی ہوئی حقیقتوں تک کا وہ ادراک کر لیں۔ جو صرف حال کو جاننے والے نہ ہوں بلکہ اپنی فراست سے مستقبل تک کا اندازہ کر سکتے ہوں۔

زندگی ایک نہایت پیچیدہ نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو امتحان کی بنا پر آزادی عطا کی ہے۔ اس لئے زندگی میں اصلاح کا معاملہ بہت زیادہ نازک کام بن جاتا ہے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ برائی کو آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس سے براہ راست تعرض نہیں کیا جاتا۔ بلکہ بالواسطہ انداز میں اس کو سدھارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی خارجی برائی کو دور کرنے کا آغاز نفسیات کی اصلاح سے کرنا پڑتا ہے۔ کبھی برائی کرنے والوں سے ٹکر او کرنے کے بجائے مصلح خود اپنے آپ کو پیچھے ہٹا لیتا ہے۔ کبھی ایک کھلی ہوئی برائی کو برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس سے الجھنے میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ شدید تر برائی پیدا ہو جائے گی۔ کبھی ایک فساد کو ختم کرنے کے لئے خاموش تدبیر کرنی پڑتی ہے کیوں کہ حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اگر احتجاج اور مظاہرہ کا انداز اختیار کیا گیا تو ایک مقامی برائی عمومی برائی بن کر سارے معاشرہ کو تباہ کر دے گی۔ کبھی ایک ناقابل برداشت صورتحال کو برداشت کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ اس کے بغیر دور رس منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی۔

زندگی اہون البیئتین اور اخف الضررین میں انتخاب کا نام ہے۔ نادان آدمی اکثر مفروضہ معیار کے پیچھے دوڑتا ہے جب کہ امکانات کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ معیار سے کم پر راضی ہو جائے۔ نادان آدمی ایک چھلانگ لگا کر تمام روایات کو توڑ ڈالتا ہے جب کہ اندیشہ ہوتا ہے کہ روایات کو توڑنے کے بعد اصلاح کا امکان ہی ختم ہو جائے۔ اس طرح کی سیکڑوں باتیں ہیں جن کو جاننا اور اپنی اصلاحی اسکیم میں ان کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ صرف دانش مند آدمی ہی ان کو جانتا ہے، اس لئے دانش مند آدمی ہی فساد کا خاتمہ کر کے اصلاح کا دور لا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page