Al-Risala · November 1995 · page 44

Nigger, Nigger, Black

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴

تنبیہی ضرب ضروری ہے، ورنہ خاندان کا نظام چل نہیں سکتا۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اسلام کی عظیم ثبت دین یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم دی کہ عورت کی طرف سے نشوز ( نافرمانی ) کا مظاہرہ ہو تو ابتداً ہر قسم کی پرامن تدبیریں کرو ۔ اگر پر امن تدبیروں سے اصلاح نہ ہو تو آخری مرحلہ میں انتہائی استثنائی تدبیر کے طور پر عورت کو مار سکتے ہو۔ مگر یہاں بھی اسلام نے اس کی حد مقرر کر دی ۔ اور وہ یہ کہ بس مسواک یا ٹوتھ برش جیسی چیز سے مارنا۔ یعنی علامتی مار، نہ کہ حقیقی مار۔ آج ستمبر ۱۹۹۳ء کی ، ۲۷ تاریخ ہے۔ مجھ کو دہلی سے نکلے ہوئے دس دن ہو چکے ہیں۔ امت کی موجودہ حالت اور قیامت کی ہولناکی کو یاد کر کے دل کا عجیب حال ہوا۔ میں نے سوچا کہ حشر کے میدان میں جب لوگ گروہ در گروہ جمع ہوں گے تو کوئی شخص ہو گا جو مسترم دین کے گروہ کا جھنڈا لے کر آئے گا۔ کوئی منافقین کا سردار بن کر چل رہا ہو گا۔ اسی طرح کوئی وہاں منحرفین کا گروہ ہوگا، کوئی مترفین کا گروہ اور کوئی مستغلین کا گروہ ۔ میں نے کہا کہ خدایا، مجھے عاجزین کے ساتھ اٹھائیے۔ حشر کے دن میں عاجزین کے گروہ کے پیچھے اس احساس کے ساتھ چل رہا ہوں کہ شاید میرے عجز پر خدا کو رحم آجائے اور وہ مجھے بخش دے۔

اس سفر کے دوران یورپ کے دو ملکوں (اٹلی اور انگلینڈ) کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔ میرا احساس یہ ہے کہ انگریزوں کی نفسیات برتری کی نفسیات ہے، اور اطالویوں کی نفسیات مقابلہ تواضع کی نفسیات ۔ سچائی کو قبول کرنے کے لئے برتری کی نفسیات ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے اور تواضع کی نفسیات ہمیشہ مددگار ہوتی ہے۔ نو آباد یاتی دور کے خاتمہ کے بعد مسلمان بہت بڑی تعداد میں انگلستان میں آئے کیوں کہ یہاں ان کو مادی نفع کے مواقع زیادہ دکھائی دئے۔ اگر ان مسلمانوں کی نظر دعوتی مواقع پر ہوتی تو شاید وہ سب سے زیادہ اٹلی کے شہروں میں جاتے۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے قاہرہ کی چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ اس کا نام تھا : تصفية الوجود الاسلامی (عبد الرحمن عبد الوہاب) کھول کر مختلف مقامات پر اسے دیکھا تو کتاب جہاد کے نام پر سیف وقتال کی باتوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page