Nigger, Nigger, Black
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳
آپ اس طرح کی باتوں کو اقلیت کی بات کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اسی طرح انڈیا میں بھی اس طرح کی باتوں کو اقلیت کی بات کہہ کر نظر انداز کر دیجئے اور پھر انڈیا آپ کے لئے انگلینڈ بن جائے گا۔
اخوانی مزاج کے بعض عرب نوجوانوں کی مجلس میں میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے فاعرض عمن تولّی ۔ یہ نہیں فرمایا کہ قاتل عمن تولّی یا حارب عمن تولّی اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ اسلامی عمل (Islamic activism) کا بنیادی اصول ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ اعراض ہے۔
اعراض کوئی سادہ چیز نہیں وہ نہایت گہرا عمل ہے۔ اعراض کا طریقہ اختیار کر کے داعی ایک مدعو کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی روش پر مزید غور کرے، دوسری طرف داعی خود اپنے لئے یہ امکان حاصل کرتا ہے کہ اس کو صبر کا انعام دیا جائے جو کہ قرآن اور حدیث کے مطابق، سب سے بڑا اسلامی عمل ہے۔
اسی کے ساتھ اعراض کا طریقہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جنگ اور ٹکراؤ میں اپنی طاقت کو ضائع نہ کرے بلکہ اپنی پوری طاقت کو اپنی تعمیر اور اپنے استحکام میں لگائے۔ اعراض اگرچہ ابتدائی مرحلہ میں برداشت کی قیمت چاہتا ہے۔ مگر جب اعراض کے ذریعہ زحمت عمل حاصل کرکے کوئی گروہ اپنے کو طاقت ور بنالے تو اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اس کے مقاصد کسی جنگ کے بغیر پورے ہوجاتے ہیں۔
ایک مغربی نوجوان نے سوال کیا کہ قرآن میں ہے کہ عورتیں نافرمانی کریں تو ان کو مارو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن عورتوں کے حق میں غیر عادل ہے۔ وہ مرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔
میں نے کہا کہ خود مغربی ذرائع میں چھپی ہوئی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ عورتوں کو مارنے کا عمل سب سے زیادہ مغربی ملکوں میں ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح انسانی سماج کا یہ عمومی ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص اور استثنائی حالات میں عورت کے حق میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues