Al-Risala · November 1995 · page 50

Nigger, Nigger, Black

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۵۰

میڈیا اسٹار کے نمائندہ مسٹر سلیم صدیقی نے ۱۳ مئی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ٹیلیفون پر لئے گئے اس انٹرویو کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ (کامن سول کوڈ) سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جوڈیشیری اور لیجسلیچر میں واضح فرق ہے۔ اس فیصلہ میں جزئی طور پر جوڈیشیری نے اپنی حد سے تجاوز کر کے لیجسلیچر کے دائرہ میں قدم رکھ دیا ہے۔ ہندی روزنامہ راشٹریہ سہارا (دہلی) کے نمائندہ مسٹر شیام سندر سنگھ نے ۲۴ مئی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ کے سوال سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دستور کی دفعہ ۲۵ (مذہبی آزادی) دستور کی دفعہ ۴۴ (کامن سول کوڈ) سے ٹکراتی ہے۔ اس لئے اگر کامن سول کوڈ لانا ہے تو مذہبی آزادی کی دفعہ کو ختم کیجئے۔ اور اگر مذہبی آزادی کی دفعہ کو باقی رکھا جاتا ہے تو کامن سول کوڈ کی دفعہ کو حذف کرنا پڑے گا۔ پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی یہ کہتے تھے کہ جب تک مسلم سماج کی طرف سے مانگ نہ کی جائے ہم کامن سول کوڈ نہیں بنائیں گے۔ یہ مسلمانوں کے تسلی کرن کے لئے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ دستور میں دی ہوئی مذہبی آزادی کی بنا پر حکومت ایسا نہیں کر سکتی کہ قانون کے زور پر کامن سول کوڈ کو لاگو کر دے۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۵ مئی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی اس کا موضوع تھا: صوفی نور الدین کشمیری، حالات اور اقوال۔ ان کا ایک قول جو نقل کیا گیا وہ یہ تھا کہ : میں نے تلوار توڑ دی اور اس سے درانتی بنا لی۔

ارن کول پروڈکشن (بمبئی) کی ویڈیو ٹیم ۲۳ مارچ ۱۹۹۵ء کو مرکز میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ”نظام مصطفیٰ“ یا اسلامی حکومت قائم کرنے پر جو لوگ مختلف مقامات پر بطور خود جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ محض سطحی لیڈری ہے نہ کہ کوئی دینی عمل اسلامی جہاد۔ اس طرح بم اور گن چلانے سے صرف فساد پیدا ہوتا ہے، اس سے کبھی کوئی حقیقی اصلاح ظہور میں نہیں آسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page