Al-Risala · November 1995 · page 49

Nigger, Nigger, Black

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹

چاہیے یا نہیں ہونا چاہئے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کامن سول کوڈ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک اس کا کوئی امکان نہیں۔ حتیٰ کہ ایکٹ بنا دیا جائے تب بھی وہ لاگو نہیں ہو سکے گا۔ اور وہ اسی طرح معطل ہو کر رہ جائے گا جس طرح سول میرج ایکٹ معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

ایک پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے ۱۶۔ ۱۹ جون ۱۹۹۵ کو بمبئی کا سفر کیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ دہلی کے ہندی روز نامہ پبلک ایشیا کے نمائندہ مسٹر محمد رؤف الرحمن نے ۲۰ جون ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر یونیفارم سول کوڈ کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دستوری دفعہ ۴۴ یونیفارم سول کوڈ، خود دستور کی دفعہ ۲۵ (مذہبی آزادی) سے ٹکراتی ہے۔ اس لئے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ دستور میں ایک اور ترمیم کر کے دفعہ ۴۴ کو حذف کر دیا جائے۔

یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ وقت کا نہایت اہم ملی مسئلہ بن گیا ہے۔ اس پر ایک مضمون دہلی کے انگریزی میگزین نیشن اینڈ دی ورلڈ (یکم جون ۱۹۹۵) وغیرہ میں شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا تفصیلی مضمون یکساں سول کوڈ الرساله (ستمبر ۱۹۹۵) میں نیز علاحدہ کتابچہ کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ اس کا انگریزی اور ہندی ترجمہ بھی ان شاء اللہ جلد چھپ جائے گا۔ انڈین ٹیلیویژن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (گلہر پارک) کی ٹیم نے سویڈش ٹی وی (ZEN ZAT AB) کے لئے ۱۲ جولائی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ کامن سول کوڈ کو قانونی طور پر نافذ کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۹ جون ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا: وقت کا استعمال۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ وقت کو نہ کھوئے اور اس کو پوری طرح استعمال کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page