Al-Risala · December 1995 · page 10

تنقید واختلاف

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰

تنقید واختلاف

تنقید کو بند کرو ، اختلاف رائے کو ختم کرو ، تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے ۔ یہ جملہ قواعد کے اعتبار سے درست ہے ، مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے ۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے ، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو ، اختلاف رائے کو برداشت کرو تا کہ امت میں اتحاد ہو سکے کسی قوم میں اتحاد ، ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے ، اور امت مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہوگا ۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں۔

صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے ۔ اسی طرح محدثین ، فقہاء ، علماء ، صوفیاء سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ حتی کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم کرنے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے۔

تنقید و اختلاف کوئی برائی نہیں ۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہے ۔ مثال کے طور پر غزوہ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدان جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا ۔ وغیرہ۔

اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالب خویش اور دوسرا طالب حق۔ طالب خویش اپنی ذات میں جیتا ہے ۔ اس کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہو۔ اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔

طالب حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے ۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے ۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا ۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر بر حق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ کیونکہ ایسی تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آتی جو پہلے سے اس کا مطلوب ومقصود تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page