Al-Risala · December 1995 · page 11

غاصب ، مغصوب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱

غاصب ، مغصوب

جب کوئی غاصب کسی کی چیز غصب کرتا ہے تو بظاہر غاصب پانے والا ہوتا ہے اور مغصوب کھونے والا ۔ مگر اصل حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ وسیع تر نگاہ سے دیکھے تو معلوم ہوگا کہ غاصب محروم ہے ، اور جو مغصوب ہے وہی وہ شخص ہے جس نے حاصل کیا ۔

اس فرق کا سبب یہ ہے کہ غاصب کو اس کا عمل سمٹاؤ کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے استحقاق کے بغیر ایک چیز پر قبضہ کیا ہے ، اس لئے وہ ہر آن یہ سوچتا رہتا ہے کہ ملی ہوئی چیز پر اپنے قبضہ کو بحال رکھے ۔ وہ تحفظ کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اس کی ساری سوچ بس ملی ہوئی چیز پر مرتکز ہوجاتی ہے ۔ وہ محدودیت کے خول میں بند ہوتا چلا جاتا ہے ۔ دوسری طرف مغصوب کی صورت حال اس کو پھیلاؤ کی طرف لے جاتی ہے ۔ وہ اپنے دائرہ سے نکل کر چاروں طرف دیکھنے لگتا ہے کہ کہاں کوئی موقع ملے جس کو استعمال کر کے وہ مزید کچھ حاصل کرے اور اس طرح اپنے کھونے کی تلافی کر سکے ۔ پہلے اگر وہ محدود دائرہ میں جی رہا تھا تو اب وہ آفاقیت کی طرف بڑھنا شروع کر دیتا ہے ۔

یہ فرق دونوں کے لئے الگ الگ نتیجہ پیدا کرتا ہے ۔ غاصب کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ جہاں تھا وہیں ٹھہر کر رہ جاتا ہے ۔ غصب کے ذریعہ اس نے جو چیز پائی تھی وہی اس کی آخری یافت بن جاتی ہے ۔ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے وہ ایک غیر ترقی پذیر مخلوق بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس کے برعکس معاملہ مغصوب کا ہوتا ہے ۔ اس کا تجربہ اس کو سراپا عمل بنا دیتا ہے ۔ وہ ایک مسلسل ترقی کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔ اس کے دماغ میں یہ بات بھر جاتی ہے کہ اس کو مزید حاصل کرنا ہے ۔ یہ مزاج اس کو دائماً متحرک رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کامیاب زندگی حاصل کر لیتا ہے ۔ جو آدمی ایک بار غصب کا معاملہ کر لے اس نے گویا اپنے آپ کو ایک خول میں بند کر لیا ۔ اس کے برعکس جس شخص کے ساتھ غصب کا واقعہ ہوا ہے وہ اپنے خول سے نکل آئے گا اور وسیع تر دنیا میں دوبارہ اپنے لئے نیا مقام حاصل کرنا چاہے گا ۔ غاصب کو اس کا فعل محدودیت کی طرف لے جاتا ہے اور مغصوب کو اس کا تجربہ وسعت اور پھیلاؤ کی طرف ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page