مذہب کا غلط استعمال
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
مذہب کا غلط استعمال
انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا (۸ مارچ ۱۹۹۵) میں مسٹر کے آر ملکانی کا ایک خط چھپا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام دہشت گردی اور فرقہ بندی کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی تردید میں دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندو مسٹر این کنجو (N. Kunjų) کا خط ٹائمز آف انڈیا ۹ مارچ میں شائع ہوا ہے۔
مسٹر کنجو لکھتے ہیں کہ خرابی خود مذہب میں نہیں ہوتی، مذہب کا نام لینے والے اس کو غلط مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ سیاست دانوں نے ہمیشہ مذہب کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ گاندھی جی نے ہندو ازم کو عدم تشدد کی تبلیغ کے لئے استعمال کیا تھا۔ اب اسی ہندو ازم کو مسٹر ملکانی کی پارٹی (بی جے پی) فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت کے لئے استعمال کر رہی ہے:
Politicians have always used religion to attain their objective. Gandhiji used Hinduism to spread non-violence, while Mr Malkani's party and 'parivar' use it to spread communal violence and hatred. (p. 10). پریس اور ڈیموکریسی کے دور میں بدقسمتی سے ہر مذہب کے لوگ یہی کر رہے ہیں۔ خود مسلم لیڈروں نے بھی بہت بڑے پیمانے پر اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا ہے۔ مسلم علاقوں میں اس وقت جگہ جگہ جہاد کے نام پر جو خوں ریزی اور تباہی ہو رہی ہے وہ سب اسی استحصالی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔
اس مذہبی برائی کو قرآن میں آیات الہیٰ کے بدلے دنیا خریدنا کہا گیا ہے اور اس سے نہایت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے (لا تشتروا بأياتي ثمنا قليلا)
سیاست اور اقتدار کے کھیل کو اگر سیاست اور اقتدار کے نام پر کھیلا جائے تو یہ بھی اگرچہ گناہ ہے مگر وہ چھوٹا گناہ ہے۔ لیکن اگر سیاست بازی اور اقتدار پسندی کا ہنگامہ مذہب کے نام پر جاری کیا جائے تو وہ گناہ کبیر اور جرم عظیم بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues