Al-Risala · December 1995 · page 14

بے عملی کا سبب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

بے عملی کا سبب

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں قرآن کی دعوت کا اعلان کیا تو وہاں کے بیشتر لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کی وجہ وہی قدیم نفسیات تھی جو پچھلے پیغمبروں کے انکار کا باعث بنی تھی۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

اور جب ان کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوئی کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اس میں چلتے پھرتے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے ( بنی اسرائیل ۹۴۔ ۹۵) - ۹۵ )

پیغمبر لوگوں کے پاس ہدایت لے کر آیا۔ مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر کو ان کے لئے انسانی نمونہ بن کر بھیجا گیا تھا۔ مگر وہ اس کو آسمانی پیکر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ پیغمبر اگر آسمانی پیکر کے روپ میں آئے تو وہ ان کے لئے نمونہ کیسے بنے گا۔ انسانی عمل کے لئے نمونہ وہی شخصیت بن سکتی ہے جس پر انسانی تجربات گزریں ۔ جو انسانی طاقت اور انسانی ضعف کے ساتھ دنیا میں رہے۔ جو پیغمبر انسانی اوصاف سے ماورا ہو وہ کسی غیر انسانی مخلوق کے لئے نمونہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ انسان جیسی مخلوق کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا۔

موجودہ زمانہ کا یہی عملی نتیجہ کے اعتبار سے یہی ہے۔ قدیم زمانہ کے منکر پیغمبروں سے اس لئے حیات انسانی کا نمونہ نہ لے سکے کہ وہ انھیں برتر مخلوق کے روپ میں دکھائی نہیں دیا۔ موجودہ مسلمان اس لئے پیغمبر سے نمونہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ پیغمبر کو ہیرو پیغمبر کے روپ میں دیکھتے ہیں نہ کہ اسوہ پیغمبر کے روپ میں ۔ ہیرو فخر کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تقلید کے لئے۔ ہیرو کو دیکھ کر قصیدہ خوانی کا جذبہ ابھرتا ہے نہ کہ اس کی پیروی کرنے کا۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ انھوں نے پیغمبر کو اپنا قومی ہیرو بنا لیا۔ اس لئے وہ پیغمبر کے لئے بڑے بڑے الفاظ بول کر خوش ہوتے ہیں۔ مگر پیغمبر جیسا عمل کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہیں ابھرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page