Al-Risala · December 1995 · page 19

فخر و ناز

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹

اس جنگ کی تفصیل عظمتِ اسلام (صفحہ ۹۲ - ۲۹۰) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ذلاقہ کے مقام پر دونوں میں زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحی فوج کی تعداد ۵۰ ہزار تھی اور مسلم فوج کی تعداد ۲۰ ہزار۔ مگر مسیحی فوج کو مکمل شکست ہوئی۔ مسیحی فوج میں سے صرف ۳۰۰ سوار بچ کر اپنے ملک کو واپس جاسکے اور مسلمانوں نے ان کا تمام مال، ہتھیار اور جانور وغیرہ غنیمت میں حاصل کیا۔ (ولم يرجع من الفرنج الا بلاد هم غير ثلاث مائة فارس وغنم المسلمون كل مالهم من مال وسلاح ودواب وغير ذالك) الكامل في التاريخ، تالیف ابن اثیر، جلد ۱۰، صفحه ۵۴ - ۱۵۱ انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے، انسان کے لئے مناسب رویہ صرف تواضع کا رویہ ہے۔ فخر و ناز کا رویہ انسان کو زیب نہیں دیتا۔ اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو تواضع کی روش اختیار کرے۔ جو لوگ فخر و ناز کی روش اختیار کریں وہ یقینی طور پر تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔

تواضع کی روش آدمی کے اندر حقیقت پسندی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کو اس وہم سے بچاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کر کے بے جا اقدام کر بیٹھے اور پھر ہلاکت سے دوچار ہو۔ تواضع کی کیفیت جس آدمی کے اندر ہو وہ کبھی جذباتیت کا شکار نہیں ہوگا، بلکہ سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا آدمی بے جا خود اعتمادی میں مبتلا نہیں ہوگا بلکہ لوگوں سے مشورہ کر کے صحیح رائے تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔

فخر و ناز کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ جو آدمی فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو گا اس کے اندر بے جا خود اعتمادی ہوگی۔ وہ اپنے بارے میں غلط اندازہ کا شکار رہے گا۔ وہ کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ وہ غیر ضروری طور پر لوگوں سے ٹکرائے گا اور اپنی غیر سنجیدہ حرکات سے لوگوں کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بناتا رہے گا۔ جن لوگوں کے اندر اس قسم کے اوصاف ہوں ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں ہلاکت کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page