غلطی کہاں ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰
غلطی کہاں ہے
مولانا امین احسن اصلاحی (مقیم لاہور) کو ایک بار فرصت کے ساتھ علامہ اقبال کو پڑھنے کا موقع ملا۔ انھوں نے اقبال کا پورا اردو اور فارسی کلام از ابتدا تا انتہا نظر سے گزار لیا۔ اس مطالعہ کے نتیجہ کے طور پر طویل عرصہ تک ایک خاص کیفیت مولانا اصلاحی پر طاری رہی۔ وہ اپنے تاثرات کا اظہار بھی برملا اور واشگاف الفاظ میں کرتے رہے۔ چنانچہ ایک بار فرمایا: اقبال کا کلام پڑھنے کے بعد میرا دل بیٹھ سا گیا ہے کہ اگر ایسا حدی خواں اس امت میں پیدا ہوا لیکن یہ امت ٹس سے مس نہ ہوئی تو ہما شما کے کرنے سے کیا ہوگا (ماہنامہ حکمت قرآن، لاہور، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷)
مولانا امین احسن کا یہ تبصرہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے کہ اقبال کی حدی خوانی سے مسلم قوم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوم نہ صرف ٹس سے مس ہوئی بلکہ وہ حرکت و عمل کا سیلاب بن گئی۔ اس کے بحر کی موجوں میں طوفانی اضطراب کا سماں پیدا ہو گیا۔ اقبال کو خود اس کا احساس تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے بارے میں کہا: اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویا ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا اقبال کی ”بانگ درا“ سے کاروان ملت نہ صرف جادہ پیما ہوا بلکہ اس نے ایک عالم کو زیر و زبر کر دیا اقبال کے یہ الفاظ ان کے بارہ میں کسی مبالغہ کے بغیر درست ہیں:
جہانے را دگرگوں کرد یک مردے خود آگاہے
واقعات کا تاریخی مطالعہ غیر مشتبہ طور پر اس کی صداقت کو ثابت کرتا ہے۔ یہاں میں اس سے تعلق رکھنے والے چند حوالوں کی طرف مختصر اشارے کروں گا۔
اس سلسلہ میں پہلی مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان کے نام پر برصغیر ہند میں جو دھواں دھار تحریک اٹھی وہ براہ راست طور پر اقبال کی دین تھی۔ یہ اقبال ہی کے افکار تھے جنھوں نے مسلمانان ہند کے اندر پاکستان کے حق میں جوش و خروش پیدا کیا۔
اقبال کے شارح حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب ”نقوش اقبال“ کے دیباچہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues