Al-Risala · December 1995 · page 24

جہانے را دگرگوں کرد یک مردے خود آگاہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو حقیقت پسندی کی خوراک درکار تھی۔ مگر اقبال نے مسلمانوں کو جذباتی ہلچل اور رومانی پرواز کی خوراک دی۔ ایسی الٹی رہنمائی کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو ہوا __ اقبال کا کیس غلط رہنمائی کا کیس ہے نہ کہ رہنمائی کو مستبول نہ کرنے کا کیس۔ شیخ سعدی شیرازی کا ایک شعر اقبال اور ان کے کروڑوں متبعین پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ سعدی نے ایک دیہاتی آدمی کو دیکھا کہ وہ زیارت کعبہ کے ارادہ سے سفر کر رہا ہے۔ مگر اس کا سفر الٹی سمت میں ہے۔ انھوں نے اس سے کہا کہ اے اعرابی، مجھے اندیشہ ہے کہ تم کعبہ تک نہ پہنچ سکو گے۔ کیوں کہ تم جس راستہ پر چل رہے ہو وہ راستہ برعکس رخ پر ترکستان کی طرف جا رہا ہے:

ترسم نه رسی به کعبہ اے اعرابی کیں ره که تو می روی به ترکستان است یہی اقبال نے زیادہ بڑے پیمانے پر کیا۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو تعلیمی جہاد کی ضرورت تھی مگر اقبال نے مسلمانوں کو سیاسی جہاد کا سبق دیا۔ مسلمانوں کے اندر سب سے پہلے فکری انقلاب لانا تھا۔ مگر اقبال نے مسلمانوں کو خارجی ہنگاموں میں ڈال دیا۔ مسلمانوں کو آج حقیقت پسندی کی خوراک درکار تھی مگر اقبال نے انھیں ہوائی اچھل کود میں مصروف کر دیا۔ مسلمانوں کو زمانہ سے ہم آہنگی کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا منصوبہ بنانا تھا مگر اقبال نے سکھایا کہ زمانہ سے لڑ کر اس کے نظام کو توڑ پھوڑ ڈالو۔ مسلمانوں کو ہر اعتبار سے داخلی تیاری کی ضرورت تھی مگر اقبال نے اچانک مسلمانوں کو اقدام کے میدان میں دوڑادیا۔ "گلوبل ولیج" کے دور میں سارا عالم مسلمانوں کے لئے میدان عمل بن چکا تھا مگر اقبال نے مسلمانوں کو سبق دیا کہ تم ایک جغرافی گوشہ حاصل کرکے اس کے اندر محدود ہوجاؤ، وغیرہ۔

اقبال کے لفظی جوش وخروش نے مسلمانوں کے اندر زبر دست ہلچل پیدا کی۔ مگر یہ ہلچل غلط سمت میں تھی، اور رجو ہلچل غلط سمت میں ہو وہ لوگوں کو صحیح سمت میں لے جانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اور نہ اس عالم اسباب میں اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page