Al-Risala · December 1995 · page 26

بڑودہ کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶

بڑودہ کا سفر

بڑودہ میں ۱۲-۱۳ نومبر ۱۹۹۹ کو ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس سیمنار کا موضوع تھا ریلیجن اینڈ پالٹیکس ۔ اس کی دعوت پر بڑودہ کا سفر ہوا۔

بڑودہ (موجودہ نام وڈودرا) گجرات کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس شہر کا قدیم ریکارڈ ۶۸۱۴ کی ایک دستاویز میں پایا جاتا ہے۔ یہ وہی سال ہے جب کہ اس وقت کے سب سے بڑے اسلامی شہر بغداد کو ایک بڑی فوج اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھی۔ یہ کسی دشمن کی فوج نہیں تھی، بلکہ المامون کی فوج تھی جو اپنے بھائی الامین کو عباسی تخت سے ہٹانے کے لئے اس کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ تقریباً ایک سال کے محاصرہ کے بعد الامین کو قتل کر دیا گیا اور المامون عباسی سلطنت کا ساتواں خلیفہ بنا۔

بڑودہ کی آبادی پندرہ لاکھ ہے۔ اس میں تقریبا دس فیصد مسلمان ہیں۔ پچھلے ہزار سال کے دوران یہ شہر مختلف سلطنتوں کے ماتحت رہا۔ اس اعتبار سے اس کا نام بھی بار بار بدلتا رہا۔ چنانچہ تاریخ میں اس شہر کے حسب ذیل مختلف نام پائے جاتے ہیں :

Vadapadraka, Chandanavati, Varavati, Vatpatraka, Baroda, Vadodara. دہلی سے ہوائی جہاز کا وقت صبح ۶ بجے تھا۔ ۱۲ نومبر کو فجر سے پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ سڑکوں پر اور چاروں طرف سیکڑوں کی تعداد میں بجلی کے چھوٹے چھوٹے بلب جلتے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ اگر سورج نکل آئے تو اچانک یہ تمام بلب یا تو بجھا دئے جائیں گے یا اپنے آپ بے نور ہو جائیں گے ـــــ حقیقتِ اعلیٰ کا ظہور وحدت پیدا کرتا ہے اور تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ تعدد کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔

فجر کی نماز ساڑھے پانچ بجے ایئر پورٹ پر پڑھی۔ کچھ دیر کے بعد گیٹ کے اوپر لگے ہوئے شیشہ کے بورڈ پر جل اٹھا :

Now Boarding — 817

اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمارا جہاز تیار ہے۔ مسافر ایک ایک کرکے چل کر انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page