Al-Risala · December 1995 · page 27

Now Boarding — 817

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷

نمبر ۸۱ میں داخل ہو گئے۔

دہلی سے جہاز تقریباً وقت پر روانہ ہوا۔ آسمان کے کنارے شفق کی سرخی نظر آنے لگی۔ دھیرے دھیرے وہ غائب ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ روشن سورج افق پر نمایاں ہوگیا۔ حسب معمول میں کا غذ نکال کر کچھ تاثرات لکھنے لگا۔ میرے پاس بیٹھے ہوئے بزرگ نے کہا: آپ اردو لکھ رہے ہیں یا فارسی۔ میں نے پوچھا کیا آپ فارسی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ یہ مسٹر کند دوبے (Muchkund Dubey) تھے۔ وہ فارین سروس سے ۱۹۶۹ میں ریٹائر ہوئَے ۔ اب وہ دہلی میں (Tel. رہتے ہیں انھوں نے بتایا کہ ملازمت کے زمانہ میں فارسی سیکھنے کے لئے انھیں ایران بھیجا گیا تھا۔ وہاں وہ ڈھائی سال رہے۔ انھوں نے اتنی کافی فارسی سیکھ لی کہ فارسی میں تقریر کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا کہ فارسی کا کوئی مقولہ جو آپ کو یاد ہو بتائیے۔ انھوں نے شیخ سعدی کا یہ مقولہ لکھ دیا: چگونه شکر نعمت گزارم که مردم آزاری ندارم (خدا کی نعمت کا میں کس طرح شکر ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا)

ہماری پہلی منزل احمد آباد تھی۔ یہاں جہاز اتراتو میں باہر آگیا۔ احمد آباد کے مناظر دیر تک دیکھتا رہا۔ مجھے یاد آیا کہ پہلی بار میں ۱۹۷۱ میں احمد آباد آیا تھا۔ دہلی سے احمد آباد کا سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ کیا تھا۔ واپسی ہوائی جہاز سے ہوئی ۔ یہ ہوائی جہاز سے میرا پہلا سفر تھا۔ اس کے بعد سے اب تک میں ۱۰۰ سے زیادہ سفر ہوائی جہاز کے ذریعہ کر چکا ہوں۔ اور اگر آمد و رفت دونوں کو ملا کر شمار کیا جائے تو ۲۰۰ سے زیادہ ۔

احمد آباد کا یہ سفر اگست ۱۹۷۹ میں ہوا تھا۔ الجمعیۃ ویکلی، استمبرا ۱۹۷۹ میں اس کی رو داد شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر نامہ کا ایک سبق آموز پیرا گراف یہ تھا:

"یہاں میں ایک مسلم نوجوان سے ملا۔ وہ بزنس کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنا کام کتنے سرمایہ سے شروع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دس روپیہ سے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اتنے کم سرمایہ سے کس طرح کام کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا: زبان سچی ہو اور ایمان دل میں ہو تو سرمایۂ کی ضرورت نہیں۔ آپ زبان دے کر کتنا بھی سودا بازار سے اٹھا سکتے ہیں۔ "

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page