Now Boarding — 817
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
نہرو کا خواب کیا تھا۔ وہ پہلے ہی انھوں نے اپنی آپ بیتی میں لکھ دیا تھا کہ میں انڈیا کو ایک سوشلسٹ انڈیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ اقتدار پر قبضہ کر کے ہم بڑے پیمانہ پر پبلک سیکٹر بنائیں گے اور ہر شعبہ میں ایسے معیاری ادارے قائم کریں گے جو پرائیویट سیکٹر کے لئے بطور نمونہ کام دے گا۔ چنانچہ نیشنل گورنمنٹ قائم ہونے کے بعد نہرو اور ان کے ساتھیوں نے ملک کی دولت کا بڑا حصہ پبلک سیکٹر قائم کرنے میں جھونک دیا۔ مگر چالیس سالہ تجربہ کے بعدمعلوم ہواکہ نام نہاد پبلک سیکٹر صرف کرپشن کا ذریعہ ہے۔ مزید یہ کہ اس نے پوری قوم کو کاہل (lethargic) بنا کر رکھ دیا۔
اس طرح نہرو کی قیادت نے ملک کو دہرانقصان پہنچایا ہے۔ اس نے مسٹر جناح کے اڑنگے‘‘ کو غیر ضروری اہمیت دی جس کے نتیجہ میں ملک کے ٹکڑے ہوگئے۔ اور دوسری طرف حاصل شدہ ہندوستان کو اقتصادی تباہی کی خندق میں گرا دیا۔ نہرو کو ہندوستان سے بے پناہ محبت تھی جس کا اندازہ ان کے وصیت نامہ سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر سوچ درست نہ ہو تو محبت بھی الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ مسلم ملکوں میں بھی پیش آیا۔ مسلم ملکوں کے اسلام پسند مخلصین نے اپنی فکری غلطی کے تحت ہر جگہ سیاسی چھلانگ لگائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور جدید میں اسلامی دعوت کے تمام امکانات برباد ہو کر رہ گئے۔
گیٹ ہاؤس کے کمرہ میں پہنچ کر میں نے پہلا کام یہ کیا کہ دیواروں کے پردے ہٹادئے۔ اس طرح کے کمروں میں عام طور پر باہر کی طرف قدرتی مناظر ہوتے ہیں۔ مگر جدید تہذیبی رواج کے مطابق ، اس پر لمبا پردہ پڑا رہتا ہے۔ مجھے ایسا پردہ پسند نہیں۔ پردہ کو ہٹانے کے بعد لمبے شیشہ کے اُس پار فطرت کے ہرے بھرے مناظر دکھائی دینے لگے۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسٹر بندوق والا سے گفت گو ہوئی۔
مسٹر عظیم بندوق والا گویا مسلمانوں کی کمپیوٹر جنریشن‘‘ کے نمائندہ ہیں۔ انھوں نے صفائی کے ساتھ کہا کہ میرے گھر کے لوگ اگرچہ روایتی طور پر مند ہی رہے ہیں۔ مگر میں تو ایک ملحد (atheist) ہوں ۔ میں مذہب میں اعتقاد نہیں رکھتا:
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues