Al-Risala · December 1995 · page 29

Now Boarding — 817

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹

جہاز بڑودہ پہنچا تو یہاں سمینار کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ چوں کہ میرے ساتھ کوئی سامان نہیں تھا اس لئے ٹھہرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ائیر پورٹ سے مسٹر عظیم بندوق والا کے ساتھ روانگی ہوئی۔ وہ مسٹر جے ایس بندوق والا کے صاحبزادے ہیں اور کمپیوٹر انجینئرنگ کا کورس کر رہے ہے۔ جب میں بڑودہ کی سڑکوں سے گزر رہا تھا تو یہاں کی ہر چیز مجھے دہلی کے مقابلہ میں پسماندہ نظر آئی۔ پھر میں نے سوچا کہ اسی طرح دہلی ، یورپ اور امریکہ کے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں پسماندہ محسوس ہوتا ہے۔ ذہن کا مسافر مزید آگے بڑھا تو خیال آیا کہ آدمی جب جنت کے شہر میں داخل ہوگا تو وہ پائے گا کہ پیرس اور واشنگٹن بھی مزید اضافہ کے ساتھ جنتی شہر کے مقابلہ میں انتہائی پس ماندہ تھے۔

ہماری گاڑی بڑودہ کی مختلف سڑکوں سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ ہم لوگ اس علاقہ میں پہنچ گئے جس کو فرٹیلائزر نگر کہا جاتا ہے۔ یہاں گجرات فرٹیلائزر کا وسیع گیٹ ہاؤس (Shin Atami Guest House) ہے۔ میرے قیام کا انتظام اس کے اندر کیا گیا تھا۔ لیکن جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو ریسپشن ڈسک پر کوئی موجود نہ تھا۔ صرف سیکورٹی گارڈ کا ایک آدمی پستول لٹکائے ہوئے گھوم رہا تھا۔ عظیم بندوق والا ڈھونڈنے کے لئے نکلے اور کچھ دیر میں ایک آدمی کو لے کر آئے۔ اس نے روم نمبر 4 ہمارے لئے الاٹ کیا۔

ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری گئسٹ ہاؤس ہے اس لئے یہاں ایسا پیش آیا۔ اگر یہ پرائیویٹ ہوتا تو آپ دیکھتے کہ گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک شخص یہاں آپ کے استقبال کے لئے موجود ہے۔

ایک گفتگو کے دوران ایک "گاندھی بھگت" نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو دیش کے بٹوارہ کے لئے آخر وقت تک راضی نہیں تھے۔ مگر نہرو اور دوسرے کانگریسی لیڈروں نے دیکھا کہ انگریز مسٹر جناح کے ذریعہ آزادی میں اڑنگا لگائے ہوئے ہیں۔ وہ اس اڑنگے کو استعمال کرتا رہے گا اور کبھی ہم کو آزادی نہیں دے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے مر جائیں گے اور بھارت کو اپنے خوابوں کا دیش نہیں بنا سکیں گے۔ اس بنا پر نہرو وغیرہ نے بٹوارہ کو مان لیا تاکہ انگریزوں کے سیاسی قبضہ سے چھٹکارا حاصل کر کے دیش کی تعمیر کی جاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page