اسپین کا سفر نامہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳
مہاتما گاندھی اس نقطہ نظر کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔ وہ ہمیشہ رام رحیم ایک ہے " کی بات کیا کرتے تھے۔ مگر وہ بھی ایک حد تک ہی اس پر قائم رہ سکے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ کو جب گاڈ سے نے انھیں گولی ماری اور وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑے تو موت سے پہلے آخری لفظ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ "ہے رام" تھا نہ کہ " ہے رام ، ہے رحیم"۔
مسٹر شار دل پرساد نے اس معاملہ میں جو تقسیم کی ہے وہی صحیح ترین تقسیم ہے۔ یعنی حکومتی پالیسی میں تو یہی ہونا چاہئے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں مراعات اور یکساں تحفظ دیا جائے ۔ کیوں کہ حکومت پورے ملک کی نمائندہ ہوتی ہے۔ مگر جہاں تک افراد کا تعلق ہے ہر فرد کا یہ حق تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب پر چاہے قلبی اعتقاد رکھے ۔
سماج میں امن اور بھائی چارہ قائم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو یہ تلقین کی جائے کہ وہ ہر ایک کا یکساں احترام کریں۔ قلبی اعتبار سے اپنے مذہب پر عقیدہ رکھتے ہوئے خارجی سلوک میں ہر ایک دوسرے کا پورا احترام کرے۔ ہر ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ سچائی جوتے کپڑے جیسی چیز نہیں ہے کہ خواہ اس کپڑے کو پہنا جائے یا اُس کپڑے کو سچائی عین اپنی فطرت کے اعتبار سے یکسوئی چاہتی ہے۔ ٹروٹھ وہی ہے جو دمی ٹروٹھ ہو۔ جو ٹروٹھ دی ٹروٹھ نہ ہو وہ یقینی طور پر ٹروٹھ بھی نہیں۔
اسپین کا سفر نامہ
اسپین کا سفر نامہ زیر تیاری ہے۔ اس کی خصوصی اہمیت کی بنا پر اس کو ایک ہی شمارہ میں بطور نمبر شائع کیا جائے گا۔ اس کی ضخامت موجودہ الرسالہ سے زیادہ ہوگی اس لیے اس کی قیمت بھی کچھ زیادہ ہوگی۔ تفصیلی اعلان إن شاء اللہ آئندہ شائع کیا جائے گا۔
منیجر الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues